جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ذکی الرحمان لکھوی کو دوبارہ حراست میں لیکر نظر بند کر دیا گیا

datetime 19  دسمبر‬‮  2014 |

راولپنڈی۔۔۔۔ممبئی حملہ سازش کیس میں عدالت سے ضمانت پانے والے مقدمے کے مرکزی ملزم ذکی الرحمان لکھوی کو دوبارہ حراست میں لیتے ہوئے نظر بند کر دیا گیا ہے۔اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جمعرات کوذکی الرحمان لکھوی کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں پانچ پانچ لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔ذکی الرحمان اس مقدمے کے سات ملزمان میں سے پہلے ملزم ہیں جن کی ضمانت منظور کی گئی۔تاہم انھیں ضمانت دیے جانے پر ملک کے اندر اور بھارت سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان ضمانت منسوخ کرانے کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کرے۔ممبئی حملہ سازش کیس میں سرکاری وکیل چوہدری اظہر کے مطابق حکام نے جمعرات کی شب ہی ذکی لکھوی کو سولہ ایم پی او یعنی خدشہ نقصِ امن کی دفعہ کے تحت نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم کو اڈیالہ جیل سے ہی حراست میں لیا گیا اور اس نظر بندی کی مدت تین ماہ تک ہو سکتی ہے۔بھارتی وزیرِ داخلہ نے ذکی لکھوی کی ضمانت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔چوہدری اظہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جمعے کو ذکی الرحمان لکھوی کی ضمانت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلینج کر رہے ہیں۔ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے اس مقدمے میں ذکی الرحمان لکھوی سمیت سات ملزمان پر فرد جْرم عائد کی جا چکی ہے اور یہ تمام ملزمان راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔26 نومبر 2008 کو شدت پسندوں نے ممبئی کے کئی مقامات پر انتہائی مربوط انداز میں حملے کیے تھے جن میں غیر ملکیوں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔خیال رہے کہ جہاں بھارت میں اس واقعے کے مرکزی ملزم اجمل قصاب کو 2012 میں سزائے موت دی جا چکی ہے وہیں پاکستان میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں زیرِ حراست ملزمان کو قانونِ شہادت میں تبدیلی کیے بغیر سزا دلوانا ممکن نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…