جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پورا ہندوستان ہی خواتین کے لیے محفوظ نہیں، ادا کارہ شہناز بول پڑیں

datetime 18  دسمبر‬‮  2014 |

نئی دہلی۔۔۔۔بالی وڈ اداکارہ شہناز ٹریڑری والا نے حال ہی میں دہلی میں ایک ٹیکسی میں ہونے والے مبینہ ریپ کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان کے نام ایک کھلا خط لکھا تھا۔اس خط پر سوشل میڈیا میں بہت بحث ہوئی اور یہ خاصا وائرل ہوا۔شہناز نے بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ آخر انھوں نے یہ خط کیوں لکھا؟۔شہناز کہتی ہیں: ’یہ ہندوستان کے سب سے زیادہ بااثر مرد ہیں۔ نریندر مودی وزیر اعظم ہیں۔ وہ ریپ جیسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر سکتے ہیں۔ انیل امبانی بہت امیر ہیں اور بزنس لیڈر تصور کیے جاتے ہیں۔‘شہناز نے کہا: ’سلمان بھائی، عامر بھائی اور شاہ رخ بھائی اس ملک کے مرد طبقے میں بڑے مقبول ہیں۔ تمام طرح کے لوگ ان کی عزت کرتے ہیں۔ جن میں وہ مبینہ لوگ بھی شامل ہیں جن پر ریپ کا الزام ہے۔‘
شہناز کا کہنا ہے کہ سلمان خان، عامر خان اور شاہ رخ خان سس ملک کے مرد طبقے میں بہت مقبول ہیں
وہ کہتی ہیں کہ ’سلمان بھائی بولیں گے تو وہ مبینہ ریپسٹ بھی ان کی بات ضرور سنیں گے، سمجھیں گے اور شاید ایسی حرکتوں سے توبہ کریں گے۔‘شہناز کی فلم ’میں اور مسٹر رائٹ‘، 12 دسمبر کو ریلیز ہوئی ہے۔
ان کا یہ خط، فلم ریلیز سے چند روز پہلے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔جس کے بعد بعض لوگوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ خود کو اور اپنی فلم کو زیر بحث لانے کے لیے شہناز نے یہ طریقہ اختیار کیا۔
شہناز کا کہنا ہے کہ پورا ہندوستان ہی خواتین کے لیے محفوظ نہیں ہے
شہناز نے کہا: ’جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ میں ایک چھوٹی سی ننھی منی رومانٹک فلم کے پروموشن کے لیے میں یہ تدبیر لگاؤں گی تو مجھے ان کی عقل پر رحم آتا ہے۔ لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔‘
انھوں نے کہا: ’سچ یہ ہے کہ میرے خط کے بعد کئی لڑکیوں اور خواتین نے اپنی مشکلات مجھے بتاء?ں اور میرے اس قدم کو سراہا۔‘
کیا بالی وڈ بھی خواتین کے لیے غیر محفوظ ہے؟ اس سوال کے جواب میں شہناز نے کہا: ’پورا ہندوستان ہی خواتین کے لیے محفوظ نہیں ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…