جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دہشتگرد کون تھے؟ کہاں سے آئے تھے؟ سب پتہ چل گیا، جاننے کیلئے کلک کریں

datetime 16  دسمبر‬‮  2014 |

پشاور:ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن مکمل کر لیا گیا۔آپریشن مکمل ہونے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ 7 دہشت گردوں نے سکول کے عقب میں سیڑھی لگا کر داخل ہوئے اور بچوں کو نشانہ بنایا۔اس سانحے میں 132 بچے اور 9سٹاف ممبرز جاں بحق ہوئے ۔جبکہ 121 بچے جن میں 3سٹاف ممبرز بھی شامل تھے زخمی ہوئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فورسز اپنا کام کر رہی ہیں تاہم حکومت ، اپوزیشن اور عدلیہ کو بھی چاہیئے کہ وہ بھی اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ آرمی پبلک سکول میں 1099 بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ سکول میں 4 بلاک موجود ہیں۔سکول کے ایڈمنسٹریٹو بلاک میں بچے کسی تقریب یا امتحان کی وجہ سے جمع تھے جہاں دہشت گردوں نے بچوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ کوئیک رسپانس فورس 10 سے 15 منٹ میں پہنچیں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا۔فورسز نے یرغمالیوں کو زندہ اور سلامت بچانے کی کوشش کی جبکہ نقصان کو کم سے کم رکھتے ہوئے آپریشن کیا گیا۔ اور 960 بچے بحفاظت ریسکیو کر لیے گئے ہیں۔ عاصم باجوہ نے بتایا کہ ایک دہشت گرد آڈیٹوریم میں مارا گیا جبکہ 6 دہشت گرد ایڈمنسٹریٹو بلاک میں مارے گئے ۔اس ?آپریشن میں ایس ایس جی کے 7 جوان اور2 افسر زخمی ہوئے ہیں جبکہ دہشت گرد اپنے ساتھ اسلحہ اور کھانے کا سامان وافر مقدار میں ساتھ لائے تھے ۔میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ پتا لگا چکے ہیں کہ دہشت گرد کون تھے اور کہاں سے آئے ۔ جب آپریشن شروع کیا گیا تو جان بچانے کے لیے انہوں نے بچوں کو مارنا شروع کر دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ سکول کو کلیئر کر لیا گیا ہے جبکہ دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا۔اور اب فورسز واپس جا رہی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور دہشت گردوں کا اسلام سے کیا انسانیت سے بھی دور دور تک کوئی رشتہ نہیں ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…