اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

جانے کس جرم کی سزا پائی یاد نہیں، کلک کریں اور پڑھیں دل دھلا دینے والی ایک تحریر

datetime 16  دسمبر‬‮  2014 |

آہ و بکا، چینخیں ، تکلیف،  فریاد، آنسو، آہیں، بین کرتی مائیں اور ضبظ کے آخری لمحات سے گزرتے باپ۔ ان سب کے سامنے افسوس کا لفظ بہت چھوٹا محسوس ہورہا ہے مجھے۔ 136 بچوں سمیت تقریباَ 138 افراد شہید  اور 245 سے زائد زخمی ہوگئے۔ سوگ، مذمتی بیانات، دکھ ، افسوس کا اظہار، متفقہ قراردادیں منظور، محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کی جانب سے 2 اور 5 لاکھ فی کس دینے کا اعلان، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم اور بس؟ کیا یہ سب کچھ کرنا ان معصوم بچوں کی شہادت کے لئے کافی ہے؟

آج تقریبا صبح 11 بجے سے شروع ہونے والی بدترین دہشتگردی نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ چاروں اطراف 15 دھماکوں کی آوزیں سنی گئیں ہیں۔ تاہم 6 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا جاچکا ہے۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان محمد عمر خراسانی کے مطابق  یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبر ون کے جواب میں ہے۔ اس بیان کے بعد ہمارے سامنے دہشت گردوں کے عزام کھل کر سامنے آگئے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ رکنے یا ڈرنے والے نہیں بلکہ مزید پلٹ کر وار کرنے کا کھلم کھلا اعلان کررہے ہیں۔ آپریشن کے ردعمل کا امکان تھا اور ہماری فوج دہشت گردوں کے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بھی تیار کررہی تھی، لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس تمام جنگ میں ہمارے مستقبل کے معماروں کی خون کی ہولی کھیلی جائے گی ؟ انہیں ایک جامع منصوبے کے تحت موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا، شاید ان معصوم فرشتوں کو قوم کا سرمایہ ہونے کی سزا دی گئی ہے۔

سانحہ پشاور پاکستان کی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے، شیری رحمان

دہشت گرد بزدلانہ کارروائیاں کررہے ہیں، وزیراعظم نواز شریف

تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں مسلح دہشت گردوں کے خلاف ایک پچ پر آجائیں ، الطاف حسین

غرض یہ کہ ہر طرح کے مذمتی بیانات اور تکلیف دہ مناظر دیکھ کر میری آنکھیں دھندلا گئیں۔ نہیں اب نہیں، بالکل بھی نہیں، ان معصوموں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہمیں لڑنا ہے اور ہم لڑیں گے ان تمام دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف جو ملک کا امن و سکون برباد کرنا چاہتے ہیں، ہر ابھرتی ہوئی آواز کو دبا دینا چاہتے ہیں، مذہب کے نام پر معصوموں کے خون کی ہولی کھیلتے ہیں، یہاں تک کہ دن دہاڑے مسجدوں، اسکولوں، بازاروں، گلی محلوں پر بھی حملہ کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ آئیں مل کر عہد کریں کہ ہمیں لڑنا ہے اور ہم مل کر اس ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک لڑیں گے۔ آئیں عہد کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…