جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

میں کیوں اپنی امریکہ کی نیشنلٹی چھوڑوں؟ شہباز گل کا اپنا گرین کارڈ جلانے سے انکار

datetime 7  اپریل‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی)تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے کہا ہے کہ میں امریکہ میں پڑھاتا ہوں ، جو کماتا ہوں پاکستان لیکر آتا ہوں ، میں کیوں وہاں کی نیشنلٹی چھوڑوں،تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بڑی تیزی کیساتھ وائرل ہورہی ہے جس میں صحافی ان سے سوال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، امریکہ کی نیشنلٹی چھوڑنے

کے حوالے سے سوال پر شہباز گل نے کہا کہ ہمارے امریکہ کیساتھ سفارتی تعلقات ہیں، ہمارا وہاں سب کچھ کام کرتا ہے ، میں بہت اچھا کام کرتاہوں ، وہاں کے بچوں کو پڑھا تا ہوں اور جو کماتا ہوں پاکستان لیکر آتاہوں اور اپنی زندگی گزر بسر کرتا ہوں، میں کیوں امریکہ کی نیشنلٹی چھوڑوں؟اس سے قبل شہباز گل نے امریکی یونیورسٹی میں لیکچر دینے سے متعلق سوال پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہاں! میں لیکچر دیتا ہوں۔شہباز گل نے نجی ٹی وی سے گفتگو ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے سوالات کےجوابات دیے۔شہباز گل کے مطابق میڈیا ہائوس نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے لاہور میں ایک پلاٹ خریدا تھا اس کا پیسا کہاں سے آیا؟ جس کے جواب میں شہباز گل نے لکھا کہ پلاٹ لاہور میں خریدا تھا، پیسے فیصل بینک بلو ایریا کے اپنے اکاؤنٹ سے کراس چیک میں ادا کیے اور FBR میں سب کچھ ڈکلئیر ہے۔ٹوئٹ میں دوسرا سوال تھا کہ کیا آپ لیکچر دیتے ہیں؟ جس کے جواب میں شہباز گل نے کہا کہ جی بالکل میں لیکچر دیتا ہوں میں ایک پروفیسر ہوں، کرپشن نہیں کرتا، ٹھیکے نہیں لیتا، حکومت سے کوئی تنخواہ نہیں لیتا اور اپنے شوق کے لیے بالکل لیکچر دیتا ہوں اور اس کی باقاعدہ اجازت لے رکھی ہے۔خیال رہے کہ میڈیا رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ  شہباز گل یونیورسٹی آف الینوائے اربانا میں بطور کلینیکل اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے ایک تحریری جواب میں تصدیق کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اب بھی یونیورسٹی کے ملازم ہیں اور ان کی
سالانہ تنخواہ 124770 ڈالرز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…