جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بحیرہ احمر میں روابی کی ہائی جیکنگ جہاز رانی کے لیے خطرہ ہے، امریکہ

datetime 5  جنوری‬‮  2022 |

واشنگٹن/ریاض(این این آئی)امریکی دفتر خارجہ نے یمن کے شہر الحدیدہ کے ساحلی شہر کی سمندری حدود میں متحدہ عرب امارات کا پرچم بردار روابی نامی بحری جہاز کو ہائی جیک کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزارت خارجہ نے روابی کی ہائی جیکنگ کو بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے لیے خطرے کے گھنٹی قرار دیا ۔ادھر یمن کی آئینی حکومت کی رٹ بحالی میں

معاون عرب اتحاد برائے یمن کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ تجارتی جہاز روابی کو ہائی جیک کرنے کا واقعہ بین الاقوامی انسانی قانون اور متعلقہ سمندری قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے،ترکی المالکی نے کہا کہ روابی پر جزیرہ سقطری میں سعودی فیلڈ ہسپتال چلانے کے لیے درکار آلات اور لوازمات لدے ہوئے تھے۔ ہسپتال نے جزیرے میں سکونت پذیر ہزاروں یمنی شہریوں کو طبی خدمات اور صحت نگہداشت کی سہولیات فراہم کی تھیں،المالکی نے مزید کہا کہ حوثیوں کو الصلیف بندرگاہ سے روابی جہاز چھوڑنا ہوگا- اس پر لدا ہوا تمام سامان بھی جو غیر حربی اور انسانی نوعیت کا ہے حوالے کرنا ہو گا،بریگیڈئر جنرل المالکی نے توجہ دلائی کہ اگر حوثیوں نے جہاز نہ چھوڑا تو ایسی صورت میں بین الاقوامی انسانی قانون اور متعلقہ سمندری قوانین کے بموجب ایسی تمام بندرگاہیں جائز عسکری ہدف بن جائیں گی جو جہاز کو ہائی جیک کرنے، ہائی جیکرز کو پناہ دینے اور قزاقی کی سرگرمی میں استعمال ہوئی ہوں گی،المالکی نے کہا کہ سمندر میں مسلح تنازعات کے بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوام متحدہ کے معاہدوں نے آبی گزرگاہوں اور سمندروں میں تجارت اور جہاز رانی کی آزادی مقرر کی ہوئی ہے،کسی بھی قانون میں نہ تو قزاقوں کو تحفظ دیا گیا اور نہ پناہ گاہ فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…