کابل(این این آئی )طالبان نے افغان شہر قندوز کے ائیرپورٹ اور فوجی ہیڈکوارٹر پر قبضہ کرلیا ہے۔افغان میڈیا کے مطابق صوبے فرح، بدخشاں اور بغلان سے افغان افواج کے انخلا کے بعد اب طالبان نے نہ صرف قندوز ائیرپورٹ بلکہ وہاں قائم افغان فوج کی کور پامیر 217 کے ہیڈکوارٹر کو بھی قبضے میں لے لیا ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ افغان فوجی طالبان کے
آگے ہتھیار ڈال رہے ہیں، اس کے علاوہ طالبان نے قندوز میں فوجی ہیلی کاپٹر کو بھی قبضے میں لیا ہے۔افغان حکام کے مطابق ضلع فرخار میں سیکیورٹی فورسز کو طالبان کے ہاتھوں بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے جب کہ صوبے بدخشاں میں صورتحال انتہائی خراب ہے، سرکاری گاڑیوں کو لوٹ کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ صرف 5 روز کے دوران طالبان 34 میں سے 9 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرچکے ہیں جب کہ طالبان کی پیش قدمی کو روکنے میں ناکامی پر صدر اشرف غنی نے آرمی چیف عبدالولی احمد زئی کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ جنرل ہیبت اللہ علی زئی کو نیا آرمی چیف مقرر کردیا ہے۔دوسری جانب امریکی حکومت کے انٹیلی جنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاہے کہ طالبان آئندہ تین ماہ کے اندر افغانستان پر قبضہ کرلیں گے۔ اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی حکومت کے حکام نے امریکی حکام کو بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق افغانستان حکومت آئندہ تین ماہ میں ختم ہوجائے گی۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ دیگر
ماہرین اندازہ لگا رہے ہیں کہ یہ معاملہ صرف ایک ماہ کی مدت میں بھی ہونے کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان نے افغانستان کے صوبے بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعوی کیا۔خیال رہے کہ یہ طالبان کی جانب سے 6 روز میں افغانستان کے آٹھویں صوبائی دارالحکومت پر قبضہ ہے۔ واضح رہے کہ صوبہ بدخشان کی سرحدیں پاکستان، چین اور تاجکستان سے ملتی ہیں۔صوبے بدخشان پر قبضے کے بعد نہ صرف طالبان افغانستان کے شمال مشرقی حصے پر قابض ہوگئے ہیں بلکہ انھوں نے افغانستان کے 65 فیصد علاقوں کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا۔