بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

گاؤں والے گونگا ہونے کی وجہ سے مذاق اڑاتے تھے تو۔۔۔ 25 سال قبل گھر سے بھاگنے والے محمد شفیق ماں سے کیسے ملے؟

datetime 24  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )گاؤں والے گونگا اور ذہنی توزان درست نہ ہونے کی وجہ سے مذاق اڑتے تھے تو میرے بیٹے نے تنگ آکر گھر چھوڑ دیا۔یہ کہنا ہے ایک ایسی ماں کا جس نے شوہر کے مرنے کے بعد کڑی جدوجہد کر کے اکیلے ہی 7 بچوں کو پال پوس کر جوان کیا۔ہماری ویب کے مطابق مظفر گڑھ کے گاؤں منڈل مدار کے رہائشی محمد شفیق بچپن

سے ہی بولنے کی صلاحیت سے محروم تھے اور ساتھ ساتھ ان کا ذہنی توازن بھی درست نہیں تھا جس پر گاؤں کے لوگ انھیں بہت تنگ کرتے تھے اس لئے 1996 میں انھوں نے لوگوں کے برے رویے سے دل برداشتہ ہو کر گاؤں چھوڑ دیا اور اب 25 سال بعد واپس ملا ہے محمد شفیق کی والدہ سرور جان کہتی ہیں کہ “میرے شوہر 40 سال پہلے فوت ہوگئے تھے۔ اکیلے ہی ٧ بچوں کی پرورش کی لیکن میرے اس بیٹے کو سب تنگ کرتے تھے جس کی وجہ سے اس نے گھر چھوڑ دیا۔ ہم نے اسے کشمیر کے کونے کونے میں تلاش کیا یہاں تک کہ اسلام آباد میں بھی ڈھونڈا، کئی جگہ منتیں مانیں لیکن جب بیٹا نہیں ملا تو ہم مایوس ہوگئے دوسری جانب محمد شفیق گھر چھوڑنے کے بعد ضلع چکوال کے چوا سیدن شاہ نامی علاقے میں جا پہنچے جہاں ایک نیک دل شخص عبدالستار نے انھیں اپنے گھر میں رہنے کی جگہ دی۔ سرور جان کہتی ہیں “جس شخص نے میرے بیٹے کو رکھا اللہ اسے لمبی زندگی دے کیونکہ اس نے میرے معذور بیٹے

کی حفاظت کی“ انڈیپینڈنٹ اردو میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق محمد شفیق جس شخص کے گھر میں رہتے تھے ان کے ایک عزیز خرم شہزاد نے محمد شفیق کے ہاتھ پر ان کا اور ان کے گاؤں کا نام لکھا ہوا دیکھا۔ محمد خرم کہتے ہیں “میں نے ہاتھ پر ان کے نام کے ساتھ ایک اور نام دیکھ کر اندازہ لگایا کہ یقیناً یہ اس علاقے کا نام ہے جہاں یہ

رہتے ہوں گے اور گھر والوں نے اسی مقصد سے لکھوایا ہوگا کہ اگر کبھی یہ کھو جائیں تو اس لکھے گئے نام کی بدولت انھیں گھر پہنچایا جاسکے کیوں کہ یہ خود تو بول نہیں سکتے۔ پھر میں نے گوگل میپ پہ اس جگہ کو ڈھونڈا لیکن وہ نہیں ملی۔ میں نے ہمت نہیں ہاری اور محمد شفیق کا گھر تلاش کرتا رہا بالآخر مجھے کامیابی ملی“ 25 سال کے طویل عرصے کے بعد گھر واپاس آنے پر محمد شفیق کی والدہ اور بہنیں خوشی سے نہال ہیں اور ان کے انسو نہیں رک رہے۔ ساتھ ہی محمد شفیق بھی خوش ہیں۔ تمام گھر والوں نے عبدالستار اور سماجی کارکن خرم شہزاد کو بہت دعائیں دیں جن کی وجہ سے بیٹا 25 سال بعد اپنی ماں کو واپس مل گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…