جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مولانا طارق جمیل کے سٹور پر عبایا کا ریٹ 30 ہزار، عوام کی مولانا پر شدید تنقید

datetime 10  مئی‬‮  2021 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل پر عوام کی جانب سے ایک بار پھر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، اس کی وجہ ان کے برانڈ ایم ٹی جے پر مہنگے داموں عبایا کی فروخت ہے، اس سے قبل بھی عوام کی جانب سے زائد قیمتوں پر برہمی کا اظہار کیا گیا تھا لیکن ایم ٹی جے نے وضاحت جاری کی

تھی یہ سب افواہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس پر عوام نے تنقید کا سلسلہ بند کر دیا تھا، لیکن اب ایم ٹی جے کے کراچی طارق روڈ پر واقع سٹور پر عبایا بیس ہزار سے تیس ہزارکی قیمت میں فروخت ہو رہا ہے، اس دفعہ یہ کوئی افواہ نہیں کیونکہ اس دفعہ لوگوں نے خود سٹور کا وزٹ کیا ہے اور عبایا کی قیمتیں خود دیکھی ہیں، جس پر مولانا طارق جمیل ایک دفعہ پر تنقید کی زد میں ہیں، سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایک صارف نے کہاکہ ایک مخصوص کلاس جو منافقت کرتی ہے، جب یہ مسجد میں ہوتے ہیں تو مساوات کی بات کرتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ایم ٹی جے سٹور کا عبایا مجھے پل صراط سے سیدھا جنت تک لے جا سکتا ہے، ایک صارف نے لکھا کہ صرف ایم ٹی جے ہی خواتین کے بے حیائی اور مختصر لباس پہننے پر قومی ٹیلی ویژن پر آنسو بہا سکتا ہے اور پھر بیس ہزار میں خواتین کے لئے عبایا لانچ کر سکتا ہے، آخر میں لکھا کہ تم کون ہو جو میری قوم کی بیٹیوں کاپردہ مہنگا بنا رہے ہو۔ ایک صارف نے لکھا کہ عباس پانچ ہزار میں ملتا ہے، پچیس ہزار کا عبایا کیا آپ سنجیدہ ہیں، اتنے ریٹ پر کون لگاتا ہے، کیا یہ غریب لوگوں کے لئے ہے یا برگرز فیملی کے لئے۔ غرض تنقید کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…