بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

قوم کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ اب وہ پاکستان بنے گا جو 70 سال پہلے بننا چاہیے تھا

datetime 9  مئی‬‮  2021 |

جدہ (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں جو پرانے نظام کو بچانا چاہتے ہیں مگر اب تبدیلی کو کوئی روک نہیں سکتا،ایک طرف انسانیت اور انصاف کا نظام ہے، دوسری جنگل کا نظام ہے، طاقت کی بالادستی جہاں ہو وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا،مشکل وقت میں اگر سعودی عرب اور متحدہ عرب

امارات ہماری مدد نہ کرتے تو پاکستان دیوالیہ ہوجاتا، مشکل وقت سے نکل چکے اب آگے روشن مستقبل نظر آرہا ہے۔ڈیجیٹل روشن پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل ایک زبردست پروگرام ہے اور سمندر پار پاکستانیوں کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے اور بیرونی زرمبادلہ بڑھانے کے لیے کام کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت فیصلہ کن لمحہ ہے، ایک طرف پرانا اسٹیٹس کو بیٹھا ہوا ہے، مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں جو پرانے نظام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں،دوسری طرف پاکستان کے پورے عوام میرے ساتھ ہیں جو تبدیلی اور قانون کی بالادستی کی طرف لے کر جا رہے ہیں، یہ اصل میں قانون کی بالادستی کی جدوجہد ہے۔عمران خان نے کہا کہ وہ معاشرہ آگے جاتا ہے جہاں قانون کی بالادستی یعنی قانون کی حکمرانی ہے، جہاں طاقت کی حکمرانی ہے اس معاشرے نے آج تک ترقی نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف انسانیت اور انصاف کا نظام ہے جبکہ دوسری جنگل کا نظام ہے، طاقت کی بالادستی جہاں ہو وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف پرانا اسٹیٹس کو اور مافیاز ہیں جو کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور سب اکٹھے ہیں، دوسری طرف عوام اورہماری حکومت ایک تبدیلی کے لیے لڑ رہی ہے۔عمران خان نے کہاکہ اس تبدیلی کو کوئی

روک نہیں سکتا کیونکہ ملک کے اندر آگاہی ہے اور قوم مسائل کو سمجھ گئی ہے جو پہلے نہیں تھی، اس کی وجہ سوشل میڈیا ہے، نوجوانوں کے پاس وہ معلومات ہیں جو پہلے کبھی تھی نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری پارٹی اقتدار میں سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی وجہ سے آئی، یہ تبدیلی بھی نوجوانوں کی وجہ آرہی ہے۔حاضرین کو

مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ آپ یہاں اخبارات میں پڑھتے ہوں گے کہ بڑی مایوسی کی چیزیں آرہی ہیں تو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اب جس طرف یہ جدوجہد جارہی ہے وہ اس پاکستان کی ہے جو 70 سال قبل بننا چاہیے تھا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب کی پاکستانی کمیونٹی کو بہت عرصے سے جانتا ہوں، ڈیڑھ سال

سے اطلاعات موصول ہورہی تھیں کہ یہاں کے اوورسیز پاکستانیوں کو سفارت خانہ درست خدمات فراہم نہیں کررہا تھا اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے نتائج ہماری سوچ سے بڑھ کر سامنے آئے، 90 لاکھ پاکستانیوں کو کسی بھی طرح ملک کا اثاثہ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب ہمارے لیے بہت اہم ہے، سعودی عرب نے بڑے مشکل وقت میں پاکستان کو سپورٹ کیا، سعودی عرب ہمیشہ مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑا ہوا، مشکل وقت میں اگر دو ممالک متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہماری مدد نہ کرتے تو ہم دیوالیہ ہوجاتے۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ ممالک کی ایکسپورٹ گر رہی تھی تو پاکستان کی امپورٹ بڑھ رہی تھی، مشکل وقت سے نکل چکے اب آگے بہت روشن مستقبل نظر آرہا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…