بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاسپورٹ بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری

datetime 8  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاسپورٹ بنوانے والے شہریوں کے لیے سہولتوں میں اضافے کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،

جہاں پاسپورٹ اور امیگریشن فیس کی ادائیگی کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا نے ایک نجی بینک کے وفد سے ملاقات کی، جس میں فیسوں کی ادائیگی کے لیے جدید اور آسان ڈیجیٹل طریقہ کار متعارف کرانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

منصوبے کے تحت شہری مستقبل میں موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے پاسپورٹ اور امیگریشن سے متعلق فیسیں جمع کرا سکیں گے، جس سے ادائیگی کا عمل تیز، محفوظ اور زیادہ شفاف بننے کی توقع ہے۔

محمد علی رندھاوا کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں گی اور سرکاری خدمات کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔ اس موقع پر بینک اور امیگریشن حکام کے درمیان کیش لیس ادائیگیوں کے نظام پر اصولی اتفاق بھی کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ڈیجیٹل معیشت اور کیش لیس نظام کے فروغ کے لیے امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کا ادارہ مختلف اقدامات کر رہا ہے تاکہ شہریوں کو جدید اور سہل خدمات فراہم کی جا سکیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی پاسپورٹ بیرونِ ملک سفر کے لیے ایک اہم سرکاری دستاویز ہے جو حامل شخص کی شناخت اور شہریت کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے اجرا کی ذمہ داری وزارت داخلہ کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے پاس ہے۔

پاکستان میں عام طور پر 5 اور 10 سالہ مدت کے پاسپورٹس جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ 15 سال سے کم عمر بچوں کو 5 سال کے لیے پاسپورٹ فراہم کیا جاتا ہے۔ جدید مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس کو زیادہ محفوظ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تصور کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار پاسپورٹ کے لیے آن لائن یا متعلقہ دفاتر اور قونصل خانوں کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…