بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے کیوں خریداری کی گئی؟کیش کس کو دیا گیا کس نے وصول کیا معلوم نہیں،تمام معاملات میں گڑبڑ ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

datetime 5  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان نے کورونا وائرس از خونوٹس کیس کی سماعت کے دوران این ڈی ایم اے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ این ڈی ایم اے کے تمام معاملات میں گڑ بڑ ہے،چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے خریداری کیوں کی گئی،کیا چائنہ میں پاکستانی

سفیر خریداری ہی کرتے ہیں یا ڈپلومیٹک کام بھی؟ کیش کس کو دیا گیا کس نے وصول کیا کچھ معلوم نہیں۔کیس کی سماعت چیف جسٹس کو سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع چیئرمین این ڈی ایم اے، سی ای او ڈریپ کے علاوہ سرکاری لیگل ٹیم عدالت کے روبرو پیش ہوئی۔ ڈریپ حکام کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ملک میں کورونا سے متعلق کسی بھی دوائی کی قلت نہیں،ایکٹمرا انجیکشن کے علاوہ کئی ادویات کا کئی ماہ کا سٹاک موجود ہے،وینٹی لیٹر سمیت کئی آلات ملک میں تیار ہو رہے ہیں۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈریپ اور این ڈی ایم اے کی رپورٹس جمع کرا دی گئی ہیں، 30 اپریل کو حکومت نے غیر رجسٹرڈ ادویات کی درآمد کا این او سی جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ کوغیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ این ڈی ایم اے کے سارے معاملات گڑ بڑ ہیں،الحفیظ نامی کمپنی کو این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی،فیکٹری کیلئے ساری مشینری اور ڈیوٹیز کی ادائیگی نقد کی گئی،چارٹرڈ جہاز کے ذریعے مشینری منگوائی اس کی ادائیگی بھی نقد ہوئی،چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے کیوں خریداری کی گئی؟کیا چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی خریداری کیلئے استعمال ہوتی ہے؟چارٹرڈ جہاز بھی ایمبیسی کے ذریعے ہی کروایا گیا،کیا چائنہ

میں پاکستانی سفیر خریداری ہی کرتے ہیں یا ڈپلومیٹک کام بھی؟ کیش کس کو دیا گیا کس نے وصول کیا نہیں معلوم،ہر چیز میں این ڈی ایم اے کا ذکر ہے، چار پانچ مرتبہ آرڈر دیا تو کچھ دستاویزات دی گئیں عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کا بھی معلوم نہیں یہ کیا ہیں،کیا کوئی تحقیقات کی گئی ہیں کہ ادویات آخر کیوں منگوائی جا رہی

ہیں،غیر رجسٹرڈ آلات اور ادویات کو امپورٹ کی اجازت کیوں دی ہے،حکومت کو کیسے معلوم ہوگا کہ کونسی چیز منگوائی جا رہی ہے،کورونا سے نمٹنے کے لیے طبی آلات ہی دستیابی کی کیا صورتحال ہے،پاکستان سٹیل مل سے آکسیجن کی بڑی مقدار مل سکتی ہے،قرنطینہ سینٹر پر کروڑوں روپے خرچ کردییے گئے،سب کو معلوم ہے حاجی

کیمپ قرنطینہ سینٹر کا کیا بنا،حاجی کیمپ پر کروڑوں روپے لگا دیئے گئے نہ پانی ہے وہاں نہ ہی رنگ کیا گیا،کیا چیئرمین این ڈی ایم اے نے قرنطینہ سینٹر کا دورہ کیا ہے؟ہمیں نہیں معلوم انہوں نے چارج کب لیا،چئرمین این ڈی ایم اے نے ذمہ لیا ہے تو قرنطینہ سینٹرز کا کل دورہ بھی کرنا چاہیے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسٹیل مل کا

آکسیجن پلانٹ کم و بیش 40 سال پرانا ہے،آکسیجن پلانٹ فعال کرنے میں ایک ارب روپے کی لاگت آئے گی،عدالت کو آکسیجن کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ فراہم کریں گے۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پرکے پی حکومت کی درخواست پر قرار دیا کہ وزارت صنعت و پیداوار دو دن میں آکسیجن سلنڈر کی قیمت کا تعین کرنی کے ساتھ ساتھ

آکسیجن سلنڈر کی قیمت کے تعین کا طریقہ کار بھی وضع کرے،عدالت عظمیٰ کی طرف سے اپنے حکم میں چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام قرنطینہ سینٹرز کا وزٹ کرنے سمیت ان سے قرنطینہ سینٹرز کی حالت بابت رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…