جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں لوٹ مار کا بازار گرم 1000روپے والی کرونا ویکسین کی قیمت 4225روپے مقرر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے ہوشربا انکشافات

datetime 8  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد،لندن(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے سندھ کی نجی سیکٹر سے کورونا ویکسین کی خریداری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ نجی سیکٹر سے ویکسین مہنگے داموں خرید رہا ہے، نجی سیکٹر سے خریداری پر خزانے کو 3ارب نقصان ہوگا۔

روزنامہ جنگ میں بلال عباسی کی شائع خبر کے مطابق ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے سربراہ این سی اوسی اسدعمر کے نام مراسلہ لکھا ہے جس میں سندھ حکومت کی ویکسین خریداری پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سندھ نجی سیکٹر سے 10 لاکھ کین سائینو ویکسین خریدرہاہے جبکہ سندھ کمپنی کے بجائے مڈل مین سے خریداری کر رہا ہے ، ویکسین خریداری وفاقی احکامات کیخلاف ہے ، کین سائینونیفی ڈوزقیمت سنگل ڈیجٹ امریکی ڈالرہے، پاکستان میں کین سائینو ویکسین کی قیمت 1000 روپے ہونی چاہیے تھی لیکن ڈریپ نے نجی سیکٹرکیلئے کین سائینوویکسین کی قیمت 4225 مقررکی ہے۔دوسری جانب یورپی میڈیسن ایجنسی نے برطانوی کورونا ویکسین ایسٹرازینیکا اور خون میں پھٹکیاں بننے کے درمیان تعلق کی تصدیق کر دی۔یاد رہے کہ خون میں پھٹکیاں بننے کے واقعات کے بعد بارہ سے زائد یورپی ممالک نے آکسفورڈ کی ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک دیا تھا۔ادھر عالمی ادارہ

صحت کا کہنا تھا کہ آکسفورڈ کی بنائی گئی کورونا ویکسین ایسٹرازینیکا کے استعمال کو نہ روکیں، کیونکہ ویکسین کے استعمال سے خون میں پھٹکیاں بننے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔برطانوی ہیلتھ ریگولیٹری ایجنسی نے کہا تھا کہ خون میں پھٹکیاں بننے (خون جمنے) اور ایسٹرازیینکا ویکسین میں تعلق اب تک ثابت نہیں ہوا ہے۔ ایسٹرازینیکا ویکسین کے حوالے سے لندن سے جاری بیان میں ہیلتھ ریگولیٹری ایجنسی کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں ویکسین لگانے کے بعد خون میں پھٹکیاں بننے کے 5 کیس رپورٹ ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…