بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

مسترد شدہ ووٹوں کامعاملہ مزید پیچیدہ سابق اٹارنی جنرلز نے نئی بحث چھیڑ دی

datetime 14  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی، آن لائن)سابق اٹارنی جنرل انور منصورخان نے کہا ہے کہ مسترد شدہ ووٹ کامعاملہ آرٹیکل 69 کے تحت عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ اگر ووٹ پر کوئی نشان لگ جائے جس سے ووٹ قابل شناخت ہو تو وہ ووٹ مسترد ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت معاملہ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے2007 میں ایک کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ ووٹر کی نیت اگر کسی بھی طرح ظاہر ہوجائے تو اس کو رد کیا جا سکتا ہے اور 2013 میں بھی ایک کیس میں ایسا ہی فیصلہ دیا تھا۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہاکہ سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ ہونا چاہیے تھا،جب میں نے بیلٹ پیپر نہیں دیکھا تھا تو اس میں ابہام موجود تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر نام پر مہر لگائی جائے تو وہ ووٹ مسترد نہیں ہوتا،پریذائیڈنگ آفیسر کی رولنگ سن کر افسوس ہوا۔ اشتر اوصاف نے کہا کہ آرٹیکل199کے تحت عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیرسائنس اینڈٹیکنالوجی وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا آئینی موقف ماناجاتا تو انتخابی عمل پرکوئی سوال نہ اٹھتا۔ آئین کے مطابق شفاف انتخاب کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سات ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کہ آئین کے آرٹیکل 218(3) میں فری اینڈ فیئر قانون کے مطابق انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، کرپٹ پریکٹس روکنا آئینی مینڈیٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجودٹیکنالوجی استعمال نہ ہوئی، وزیراعظم عمران خان کاآئینی موقف ماناجاتاتوانتخابی عمل پرکوئی سوال نہ اٹھتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…