اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ٹیکسٹائل پالیسی 2020-25کی منظوری ابھی تک تعطل کا شکار حکم عدولی میں کون کون آگے ہے؟معاملہ کھل کر سامنے آگیا

datetime 25  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کی دو بار اجازت کے بعد بھی ٹیکسٹائل پالیسی 2020-25کی منظوری ابھی تک تعطل کا شکار ہے جیسا کہ بہت سے اہم اقتصادی وزرا اور وزیر اعظم کے خصوصی معاونین پالیسی کی پورا زور لگاکر مخالفت کرتے ہوئے حکم عدولی کر رہے ہیں۔

روزنامہ جنگ میں خالد مصطفی کی شائع خبر کے مطابق وزارت تجارت نے متعدد بار ای سی سی کے ایجنڈے میں ٹیکسٹائل پالیسی کو شامل کیا لیکن ای سی سی کے کچھ ارکان ٹیکسٹائل پالیسی کی منظوری دینے کے لئے تیار نہیں ہیں جو پانچ سال کے لئے 7.5 سینٹ فی یونٹ بجلی کے نرخ اورفی ایم ایم بی ٹی یو 6.5 ڈالر پر آر ایل این جی فراہمی کو یقینی بناتا ہے اور یکم مارچ 2021 سے برآمدی صنعت کے لئے کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پی) کو گیس کی فراہمی روکنے کے فیصلے کے لئے انہی ارکان نے کابینہ کی کمیٹی برائے انرجی (سی سی ای ای) میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب برآمدات کے شعبے کو یکم مارچ سے صرف 9 سینٹ فی یونٹ قومی گرڈ سے آنے والی غیر متوقع بجلی پر انحصار کرنا پڑے گا۔سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود کو ای سی سی کے مختلف اجلاسوں میں کچھ معاشی وزرا نے عاجز کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید مخالفت سے مشتعل دائود نے وزیر اعظم کو

آگاہ کرنے کا فیصلہ کیاکہ انہیں ٹیکسٹائل پالیسی پر بہت زیادہ مخالفت کا سامنا ہے اور وہ اس وقت تک اسے ای سی سی میں نہیں لے جارہے جب تک کہ وزیر اعظم اس معاملے پر اجلاس کی صدارت نہیں کرتے۔ ذرائع نے بتایا کہ دائود کی دلیل ہے کہ اگر انڈیا ، بنگلہ دیش اور ویتنام میں صنعتی

شعبوں کو فراہم کی جانے والی بجلی اور گیس کی علاقائی شرح سے محروم رکھا گیا تو برآمدی صنعت اپنی منڈی کھو دے گی۔ اگر ٹیکسٹائل پالیسی کو منظور نہ کیا گیا تو ملک کی برآمدات میں حالیہ اضافے کا خاتمہ ہوگا۔ مجوزہ ٹیکسٹائل پالیسی 2020-25 میں مذکور 7.5 سینٹ فی یونٹ بجلی کے نرخ کا مطالبہ کچھ وزرا کے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…