ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے باسمتی چاول پر بھارتی دعویٰ چیلنج کردیا 

datetime 11  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن ) انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) پاکستان نے یورپی یونین میں باسمتی چاولوں کے لیے خصوصی جغرافیائی اشارے (جی آئی) حاصل کرنے کے بھارتی اقدام کے خلاف درخواست دائر کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی پی او پاکستان نے برسلز میں

موجود ایک بین الاقوامی لا فرم کے ذریعے ریگولیشن (ای یو) کی دفعہ 51 کے تحت مخالفت دائر کی۔مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد نے  گزشتہ رات کی گئی  ایک ٹوئٹ میں اس پیش رفت کی تصدیق کی، انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ حکومت پوری تندہی اور عزم کے ساتھ اس کیس کا دفاع کرے گی۔ ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے لکھا کہ ‘میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے یورپی یونین میں چاول کی برآمدات کے لیے باسمتی چاول کے خصوصی حقوق کی درخواست کی مخالفت میں درخواست دائر کردی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاول سے منسلک افراد کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم بھرپور تندہی اور عزم کے ساتھ اس کیس کا دفاع کریں گے۔جہاں بھارت بین الاقوامی سطح پر باسمتی چاول کی 65 فیصد تجارت کرتا ہے وہیں بقیہ 35 فیصد باسمتی چاول پاکستان پیدا کرتا ہے جو ملک کی سالانہ 80 کروڑ سے ایک ارب ڈالر برآمدات کے برابر ہے۔ آئی پی اور کے ایک عہدیدار نے کہا کہ یورپی کمیشن کے قواعد کے تحت کویء درخواست جب باضابطہ جنرل میں شائع ہوجائے تو اس کے 3 ماہ کے اندر مخالفت دائر کرنا ہوتی ہے، پاکستان نے اس مہلت کے ختم ہونے سے 2 روز قبل اپنی درخواست دائر کردی۔11 ستمبر کے یورپی یونین کے باضابطہ جنرل کے مطابق بھارت نے یورپی پارلیمنٹ کے ریگولیشن کے آرٹیکل 50 اور کونسل آن کوالٹی اسکیم فار ایگریکلچر پروڈکٹس کے تحت باسمتی چاولوں کے لیے جی آئی ٹیگ کی درخواست دی تھی۔تاہم 22 ستمبر کو پاکستانی حکومت نے یورپی یونین میں باسمتی چاول کے لیے جی آئی ٹیگ کے خصوصی حقوق حاصل کرنے کی درخواست کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…