اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد ماسٹر پلان پر نظرثانی،بین الاقوامی اداروں نے بولی جمع کرا دی

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر نظرثانی کے لیے شہری انتظامیہ کو بین الاقوامی ٹاؤن پلاننگ اداروں کے 4 کنسورشیمز سے بولی موصول ہوگئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے کے ذرائع نے بتایا کہ جانچ کے بعد مالی بولی تقریباً ایک ماہ میں کھول دی جائیگی تاکہ معاہدے کو سب سے کم بولی لگانے والے کو دیا جائے۔ماسٹر پلان 1960 میں

تیار کیا گیا تھا اور ہر 20 سال بعد اس پر نظر ثانی کی جانی تھی تاہم یکے بعد دیگرے حکومتوں نے شہر کی درپیش ضروریات کے مطابق مناسب نظر ثانی نہیں کی۔متعدد حکومتوں کی طرف سے ماسٹر پلان میں کسی پیشہ ورانہ ماہرین کی رائے کے بغیر بار بار انتخابی تبدیلیاں کی گئیں۔ذرائع نے بتایا کہ اب تک ماسٹر پلان میں 40 سے زیادہ تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پی سی ون کی قیمت تقریباً 60 کروڑ روپے ہے تاہم مالی بولیاں کھولنے کے بعد ہم دیکھیں گے کہ کمپنیوں نے کیا شرح پیش کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 4 کنسورشیمز میں 11 کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں۔کنسلٹنٹ فرم کی خدمات حاصل کرنے میں کافی تاخیر کے بعد سی ڈی اے نے رواں سال ستمبر میں معروف اداروں سے درخواستیں طلب کی تھیں۔پی ٹی آئی حکومت نے ماسٹر پلان پر نظرثانی کے لیے دسمبر 2018 میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا۔اکتوبر 2019 میں وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے کمیشن کے ذریعے تیار کردہ عبوری رپورٹ کو منظور کیا تھا اور کنسلٹنٹ کے ذریعے مناسب نظر ثانی کی ہدایت کی تھی۔اس کے بعد سی ڈی اے کو کابینہ کے ہدایت کردہ پلاننگ کمیشن کے ذریعے پیشکش کی درخواست (آر ایف پی) دستاویزات ملیں، یہ اقدام بین الاقوامی کمپنیوں کی بولیاں طلب کرنے سے کئی ماہ قبل اٹھایا گیا تھا۔سی ڈی اے کے عہدیداروں نے بتایا کہ

اسلام آباد ایک تیز رفتار ترقی پذیر شہر ہے اور فی الحال اس کی آبادی 22 لاکھ سے زیادہ ہے تاہم شہری ایجنسی 1960 میں یونانی ادارے – ڈوکسیاڈس ایسوسی ایٹس کے تیار کردہ ماسٹر پلان کے مطابق شہرکو چلا رہی ہے۔سی ڈی اے کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’60 سال کے بعد اس شہر میں بہت سی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں اور دائمی مسائل کے بہتر حل کے

لیے اس میں ترمیم اور ماسٹر پلان میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان میں کی جانے والی انتخابی تبدیلیوں کو مناسب نظرثانی سے نظر انداز کرنے سے غیر مجاز تعمیرات، خاص طور پر دارالحکومت کے دیہی علاقوں میں ناقص منصوبہ بندی اور اچانک نمو کا خاتمہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ شہری علاقے میں بھی درجنوں کچی آبادیاں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…