ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

معروف عالم دین ڈرائیور سمیت جاں بحق، کراچی میں انتہائی افسوسناک واقعہ

datetime 10  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) وفاق المدارس کے سابق سربراہ مولانا سلیم اللہ خان مرحوم کے صاحبزادے مولانا ڈاکٹر عادل خان مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی و رکن مجلس عاملہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور ان کے ڈرائیور شاہ فیصل کالونی میں قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے ہیں،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مولانا عادل کے جاں بحق ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس کو قاتلوں

کی فوری گرفتاری کی ہدایت جاری کردیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی نمبر 2 میں واقع شمع شاپنگ سینٹر کے قریب نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ڈبل کیبن گاڑی پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل اور ڈرائیور مقصود احمد زخمی ہوئے۔مولانا عادل کو نجی اسپتال جبکہ ڈرائیور کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ نجی اسپتال کے ترجمان نے مولانا عادل اور ڈاکٹر سیمی جمالی نے ڈرائیور کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔اسپتال ذرائع کے مطابق مولاناعادل کو دو گولیاں لگیں جن میں سے ایک ان کی گردن پر بھی لگی۔مولانا ڈاکٹر عادل خان مولانا سلیم اللہ خان مرحوم کے صاحبزادے تھے۔ مولاناسلیم اللہ وفاق المدارس پاکستان کے سربراہ تھے جبکہ مولانا ڈاکٹر عادل خان جامعہ فاروقیہ کراچی کے مہتمم اور وفاق المدارس العربیہ کی مجلس عاملہ کے رکن بھی تھے۔ واقعے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ایس ایس پی کورنگی فیصل عبداللہ چاچڑ کے مطابق زخمیوں کو ویگو گاڑی میں ہی اسپتال منتقل کیا گیا،جائے وقوعہ سے خول ملے ہیں جن کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔۔شاہ فیصل کالونی کے ڈی ایس پی سید علی رضا کے مطابق وہ علاقے میں سانحہ کربلا کے چہلم کے سلسلے میں ایک جلوس کی انتظام ڈیوٹی پر موجود تھے کہ ا س واقعہ کی اطلاع ملی۔علی رضا کے مطابق موقع پر پہنچے تو پتہ چلا کہ شمع شاپنگ سینٹر کے

باہر کھڑی گاڑی پر فائرنگ کی گئی زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر اسپتال روانہ کیا گیا۔واقعہ کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کی سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے واردات کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے مولانا عادل کے جاں بحق ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس کو ملزموں کی فوری گرفتاری

کی ہدایت جاری کردی۔اپنے بیان میں وزیراعلی سندھ نے کہاکہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزموں کی گرفتاری فوری عمل میں لائی جائے، کچھ افراد شہر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعلی سندھ کا مولانا عادل کی فیملی اور ساتھیوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یقین دہانی کروائی کہ

حکومت ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے شاہ فیصل کالونی میں گاڑی پر فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی کورنگی سے تمام تر ضروری امور اور واقعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتار کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات فی الفور طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…