ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

لاڑکانہ میں والدین پیدا ہونیوالی بیٹیوں کو ہسپتال میںچھوڑ کر جانے لگے انتظامیہ کا والد ین سے متعلق اہم انکشاف سامنے آگیا

datetime 10  اکتوبر‬‮  2020 |

منامہ(آ ن لائن) مردہ قرار دیے گئے جڑواں بچے تدفین کے دوران اچانک زندہ ہو گئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بحرین میں جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد ایک بچے کو مردہ قرار دیا گیا جبکہ دوسرے بچے کو تشویشناک حالت میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ منتقل کیا گیا تاہم کچھ دیر بعد دوسرے بچے کو بھی مردہ قرار دے کر والدین کے حوالے کر دیا گیا۔اہلخانہ کی جانب سے

دونوں بچوں کو غسل دینے کے بعد قبرستان لے جایا گیا جہاں تدفین کی تیاریاں جاری تھیں کہ اچانک بچوں نے رونا شروع کر دیا۔ بچوں کی آواز نے سب کو حیران کر دیا جس کے بعد بچوں کو فوری طور پر دوبارہ اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال کی انتظامیہ نے غفلت برتنے والے ڈاکٹر کو معطل کر دیا جبکہ وزارت صحت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔‎دوسری جانب سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں مبینہ طورپر والدین کی جانب سے نوزائیدہ بچیوں کو اسپتال میں لاوارث چھوڑنے اور علاج سے محروم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔لاڑکانہ میں شیخ زید اسپتال کے ڈائریکٹر عبداللہ چانڈیو نے انکشاف کیا کہ رواں سال 6 بچیوں کو والدین اسپتال میں لاوارث چھوڑ کر چلے گئے۔والدین نے غلط پتہ اور فون نمبر کا اندراج کروا کربچیاں اسپتال میں چھوڑ دیں۔انہوں نے کہا کہ والدین کی طرف سے اسپتال میں چھوڑنے والی 6 بچیوں میں سے 5 بچیاں فوت ہو گئیں جبکہ زندہ بچ جانے والی ایک بچی کو ایدھی کی مدد سے اسپتال میں کام کرنے والی اسٹاف نے گود لے لیا۔والدین کی طرف سے رواں سال 100سے زائد بچوں کو علاج کے بنیادی حق سے محروم کیا گیا جبکہ میڈیکل ایڈوائس کے خلاف جا کر علاج سے محروم کرنے والے بچوں میں 80 فیصد فیمیل نوزائیدہ کیسز شامل ہیں۔ایمرجنسی یونٹ سے آکسیجن پر منتقل ہونے والے بچوں کو واپس لے جانے کے ماہانہ 10 سے 15 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ عبداللہ چانڈیو نے کہا کہ شیخ زید چلڈرن ایمرجنسی میں بچوں کو ایمرجنسی علاج اور ادویات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔اسپتال کے ایچ او ڈی سیف اللہ جامڑو نے کہا کہ سندھ میں سب سے زیادہ بچوں کے کیسز کا اندراج شیخ زید چلڈرن اسپتال لاڑکانہ میں ہوا ہے جبکہ بچوں سے غفلت کو ترقی یافتہ ممالک میں ایک قابل سزا جرم ہے لیکن ہمارے ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…