ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

آپ نے کہا کہ کسی کی جرأت نہیں کہ وہ آپ سے استعفیٰ مانگے، خدا کرے ایسا ہی ہو، نواز شریف نے 12اکتوبر 1999کو کیا کیا تھا جس کے بعد انہیں وزیراعظم ہاؤس سے زبردستی باہر نکال دیا گیا تھا ؟ سینئر صحافی کے اہم انکشافات

datetime 7  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )میری دعا ہے کہ اِن 73برسوں میں عمران خان اس ملک کے پہلے وزیراعظم بنیں جو اپنی میعاد پوری کریں،طرز حکمرانی پر تنقید ہو سکتی ہے مگر اس مسئلے کو ہمیشہ کیلئے طے کرنے کی ضرورت ہے کہ اس ملک میں سویلین بالا دستی کو تسلیم کیا جائے، خود

تجربات کرنے چھوڑ دیں۔روزنامہ جنگ میں شائع سینئر صحافی مظہر عباس اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔عمران خان خوش نصیب ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کی آغوش میں آنکھ کھولی مگر اس وقت ان کی کابینہ میں آمریت کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ وہ سیاست میں 1995میں آئے جس وقت ملک میں ایک جمہوری حکومت تھی، انہیں شکر گزار ہونا چاہیے، ان سیاستدانوں، کارکنوں، صحافیوں، مزدوروں، کسانوں، وکیلوں کا، جنہوں نے جمہوریت کی خاطر قربانیاں دیں، پھانسی چڑھے، کوڑے کھائے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ چند دن جیل میں رہے، ورنہ یہاں تو جیل میں ڈال کر، شاہی قلعہ میں بند کرکے بھول جاتے تھے، ایوب خان کی تعریف کرتے آپ تھکتے نہیں ہیں، کبھی حسن ناصر کا بھی ذکر ہو جائے جو آمریت کے خلاف پہلا شہید جمہوریت ہے۔ کبھی نظیر عباسی، کا بھی ذکر کردیا کریں، چلیں ان سب کو چھوڑیں، ذوالفقار علی بھٹو پر آ جائیں، آپ نے درست کہا کہ اس نے آمریت کی آغوش میں آنکھ کھولی مگر دو آمروں کے خلاف جدوجہد کی اور ایک کے ہاتھوں پھانسی چڑھ گیا، اس ملک کا آئین اور ایٹم بم اسی کا مرہونِ منت ہے۔آپ نے کہا کہ کسی کی جرأت نہیں کہ وہ آپ سے استعفیٰ مانگے، خدا کرے ایسا ہی ہو، نواز شریف نے 12اکتوبر 1999کو انکار کیا تو انہیں وزیراعظم ہاؤس سے زبردستی باہر نکال دیا گیا۔ اس دوران جوکچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے، کوئی بھی منتخب وزیراعظم یا حکومت ہو اس کی پالیسیوں سے شدید اختلاف کیا جا سکتا ہے اور انہیں گھر بھیجنے کا طریقہ بھی آئین میں درج ہے مگر کسی غیرآئینی اقدام کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…