ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

’کہتےہیں بلین ٹری لگائے لیکن ہمیں کوئی درخت نظر نہیں آیا‘ ہم پشاور آئے یہاں اتنی گرد ہے کہ سانس لینا بھی مشکل ہے، چیف جسٹس گلزار احمد کی پی ٹی آئی حکومت پر شدیدتنقید

datetime 5  اکتوبر‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ کہاں ہے بلین ٹری سونامی کے درخت ہمیں تو ایک بھی نظر نہیں آیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پشاور رجسٹری میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ ڈی جی ماحولیات، سیکرٹری ماحولیات،

سیکٹری انڈسٹری اور ایڈووکیٹ جنرل شمائل بٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے جو آفیسرز کام نہیں کررہے سب کو فارغ کردینا چاہیے، آفیسروں کا کام صرف خط لکھنا نہیں، ہم پشاور آئے تو ہر طرف گرد ہی گرد دکھائی دے رہی ہے، اتنی گرد ہے کہ سانس لینا بھی مشکل ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پشاور کا یہ ہال ہے دیگر شہروں کا کیا ہال ہوگا، یہاں تو اتنی فیکٹریاں بھی نہیں پھر بھی یہ صورتحال ہے، یہاں کورونا نہ بھی ہو تو ماسک پہننا ضروری ہے، کہاں ہے بلین ٹری سونامی کے درخت ہمیں تو ایک بھی نظر نہیں آیا، ہم رات کے وقت پشاور آرہے تھے تو بہت برے حالات تھے، شام کے وقت ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا، آپ لوگ اس کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں، آپ تو کہہ رہے بلین درخت لگائے ہیں، آپ کے درخت کہاں پر ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم راستے میں آ رہے تھے تو کہیں بھی درخت نظر نہیں آئے، شاہراہ کے کنارے کوئی درخت نہیں صرف دھواں نظر آ رہا تھا، سیکرٹری ایسے سفید کپڑوں میں آئے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ یہ کبھی فیلڈ میں گئے ہوں، یہ کام کے بندے ہوتے تو انکے کپڑے اتنے صاف نا ہوتے، یہ صرف خط لکھتے ہیں اور دفتر میں افسری کرتے ہیں، ان تمام افسروں کو فارغ کر کے ایسیبندے لائے جائیں جو کام کے ہوں، پشاور میں ماحولیاتی آلودگی اتنی ہو چکی کہ یہاں ماسک کے بغیر کو ئی گھر سے نکل نہیں سکتا۔عدالت نے چار ہفتوں میں متعلقہ محکموں سے تفصلی رپورٹ طلب کر لی۔ ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…