منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

ملک کا منی لانڈرنگ قانون بھی طاقتوروں کو نہیں پکڑ سکتا، وزیراعظم عمران خان کا بے بسی کا حیرت انگیز اظہار

datetime 30  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے پیچھے رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں اشرافیہ کے لیے منصوبہ بندی کی گئی، اسی وجہ سے ملک کا منی لانڈرنگ قانون بھی طاقتوروں کو نہیں پکڑ سکتا، مجھے امید ہے کہ ہم آئی ٹی اور نوجوانوں کو استعمال کرکے اپنی برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں،یکطرفہ ترقی جو ہمارے ملک میں ہوتی ہے اس کے معاشرے پر بہت

برے اثرات ہوتے ہیں، دنیا کی ترقی کو بھی دیکھیں،غریب ملک غریب تر ہوتے ہیں اور جب امیر ممالک میں سارا پیسا لگ جاتا ہے تو منی لانڈرنگ کے قانون بھی طاقت ور ممالک کو تحفظ دیتے ہیں اور کمزور ممالک کو کوئی تحفظ نہیں دیتا۔ بدھ کو سندھ اور بلوچسان میں تیز ترین موبائل براڈبینڈ ڈیٹا سروسز فراہم کرنے کیلئے یونیورسل سروسز فنڈ (یو ایس ای)کی جانب سے معاہدوں کی دستخط تقریب سے خطاب انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت غربت ہے وہ بہت وسیع علاقہ ہے تاہم اس علاقے کو بہت نظرانداز کیا گیا اور وہ بہت پیچھے رہ گیا، یہاں تک کہ جہاں سے سوئی گیس نکلی وہاں سے دیگر علاقوں کو فراہم کی گئی لیکن وہ علاقہ پتھروں کے دور میں ہے۔انہوں نے کہاکہ یکطرفہ ترقی جو ہمارے ملک میں ہوتی ہے اس کے معاشرے پر بہت برے اثرات ہوتے ہیں، دنیا کی ترقی کو بھی دیکھیں تو جب غریب ملک غریب تر ہوتے ہیں اور امیر ممالک میں سارا پیسا لگ جاتا ہے تو منی لانڈرنگ کے قانون بھی طاقت ور ممالک کو تحفظ دیتے ہیں اور کمزور ممالک کو کوئی تحفظ نہیں دیتا۔عمران خان نے کہا کہ جب دنیا میں غیرمنصفانہ ترقی ہوتی ہے تو معاشرے کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بھی یہی رہا ہے کہ ایک چھوٹے سے طبقے کے لیے انگریزی تعلیم دی گئی جبکہ باقی دینی مدارس کو ہم نے نظر انداز کردیا کہ وہاں کیا تعلیم دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ

سرکاری اردو میڈیم سے بہت بڑے دانشور آتے تھے لیکن آہستہ آہستہ پیسے بنانے کیلئے انگیریزی میڈیم اسکولز کی کی دکانیں کھل گئیں اور سرکاری اسکولز اور پیچھے چلے گئے۔انہوں نے کہاکہ 60 کی دہائی میں دنیا پاکستان کی مثال دیتی تھی اور بہت سے ممالک کیلئے پاکستان رول ماڈل تھا تاہم ہم پیچھے اس لیے رہ گئے کہ یہاں جو منصوبہ بندی کی گئی وہ صرف اشرافیہ اور چھوٹے سے طبقے

کیلئے کیا گیا، ایک وقت میں سرکاری ہسپتالوں میں بہترین علاج ہوتا تھا لیکن آہستہ آہستہ یہ ہسپتال غریبوں کے لیے رہ گئے اور نجی ہسپتال پیسے والوں کے لیے ہوگئے۔عمران خان نے کہا کہ یہ جو مفاہمت کی یادداشت ہم نے کی ہے یہ بہت مثبت چیز ہے اور ہم نے سوچا کہ پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو جوڑیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں لوگوں کی زندگی کو بہتر کرنے کیلئے جوڑنا (کنیکٹی وٹی)

زبردست طریقہ ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں جب بھی مواصلات جاتی ہے تو لوگ اوپر آنا شروع ہوجاتے ہیں، موبائل فون کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ان علاقوں جہاں لوگوں پر تعلیم نہیں پہنچی وہاں لوگ اس کے ذریعے تعلیم حاصل کرتے ہیں، میرے گھر کے بھی کئی ملازم خود موبائل فون چلاتے ہیں اور کچھ کے فیس بک اکانٹس بھی ہیں۔پانچویں صنعتی انقلاب سے متعلق انہوں نے کہا

کہ جدید ٹیکنالوجی کا بہت بڑا کردار ہے اور 4 جی اور 5 جی سے بہت بہتر اثر پڑے گا جبکہ کورونا وائرس کے دوران ورچوئل ایجوکیشن کا بہت فائدہ ہوا ہے اور اب ہمیں بھی یہ آئیڈیا ملا ہے کہ اسے ان علاقوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں اساتذہ کو نہیں بھیج سکتے۔وزیراعظم نے

اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل پاکستان ملک کا مستقبل ہے، وزارت آئی ٹی اچھا کام کر رہی ہے لیکن ہم نے ابھی بہت کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں، آئی ٹی اور رابطوں کو استعمال کریں تو مجھے امید ہے کہ ہم اپنی برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…