بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

شارجہ میں شیر پالنے والے کو ایک لاکھ درہم جرمانہ بھرنا ہو گا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

شارجہ۔۔۔عرب ملک متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ میں اطلاعات کے مطابق حکام نے عوام کے ’خطرناک جانور‘ پالنے اور مکانات کی بالکنیوں میں سامان رکھنے یا وہاں کپڑے لٹکانے پر پابندی لگا دی ہے۔شارجہ کے حکمران محمد القسیمی نے حال ہی میں ایک حکم جاری کیا ہے جس کے تحت عوام کے ’شکاری جانوروں‘ کو بطور پالتو جانور رکھنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق اس حکم کے تحت یہ خطرناک جانور چاہے جس بھی مقصد کے تحت خریدے گئے ہوں انھیں گھروں یا فارم ہاؤس پر نہیں رکھا جا سکے گا۔حکام کے مطابق حکم عدولی کرنے والے افراد کو ایک لاکھ درہم جرمانہ کیا جائے گا۔متحدہ عرب امارات میں امرا کے شیر، چیتے اور تیندوے پالنے کا رواج ہے۔2013 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ شکاری جانور متحدہ عرب امارات میں عام دستیاب ہیں اور ان کی قیمت 50 ہزار درہم تک ہو سکتی ہے۔متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کے لیے دیگر ممالک سے آنے والے افراد کی بڑی تعداد چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں مقیم ہے۔ادھر مقامی اخبار گلف نیوز کے مطابق شارجہ میں ایسے افراد کو جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جن کی بالکنی میں یا تو کپڑے سوکھ رہے تھے یا پھر وہاں سیٹیلائٹ ڈش نصب کی گئی تھیں۔دو ہفتے تک جاری رہنے والی مہم کے دوران متعدد افراد کو پانچ سو درہم جرمانہ کیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد جرمانے کر کے رقم اکٹھی کرنا نہیں بلکہ یہ شہر کی خوبصورتی برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔تاہم کچھ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھوپ میں کپڑے سکھانے سے نہ صرف ڈرائر چلانے کی صورت میں خرچ ہونے والی بجلی کی بچت ہوتی ہے بلکہ ماحول بھی صاف رہتا ہے۔خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کے لیے دیگر ممالک سے آنے والے افراد کی بڑی تعداد چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں مقیم ہے اور ان عمارتوں کی بالکنیوں پر لگی الگنیاں کپڑوں سے بھری رہتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…