ہفتہ‬‮ ، 18 اپریل‬‮ 2026 

شہبازشریف نے طاقتوروں کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہوئے کیا کہا تھاجس کے بعد انہیں بچا لیا گیا ؟ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان کیا اتفاق ہو چکا تھا ، وہ کس صورتحال سے نبردآزما ہونے کو تیار نہ تھے ؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 17  جولائی  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نومبر 2019ء میں ایک فارمولہ طے پاگیا تھا کہ مرکزمیں عمران خان کو گھر بھیج کر مسلم لیگ ن کو ایک بار پھر موقع دے دیا جائے۔ شرط مگریہ کہ مرکز میں شریف خاندان کے کسی فرد کی بجائے شاہد خاقان عباسی یا ایازصادق کو وزیراعظم بنایا جائے۔روزنامہ جنگ میں شائع سینئر صحافی اعزاز سید اپنے کالم کے مطابق غالبا ایاز صادق پر اتفاق بھی قائم کرلیا گیا تھا۔

پنجاب کی کمان عثمان بزدار سے لے کر گجرات کے چوہدریوں کے حوالے کرنا تھی۔ پرویز الٰہی ایک موثر وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ماضی میں بھی اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے تھے اب انہیں ایک بار پھر آزمانے کا فیصلہ کیا گیا۔مجوزہ منظر کشی کرنے والوں کا خیال تھا کہ مرکز میں مسلم لیگ ن کے ہاں میں ہاں ملانے والے چہرے اور پنجاب میں تجربہ کاروزیراعلیٰ کی موجودگی سے منجمد کاروبار بحال ہوجائے گا جس سے معیشت کی ڈوبتی کشتی ایک بار پھر کامیابی سے سفر کرنے لگے گی اور عام آدمی کو اطمینان حاصل ہوگا۔یہ سب طے تھا۔ مگر ایک کردار کی نکی جئی ہاں لازمی تھی اور وہ تھا برطانیہ میں بیٹھا میاں نوازشریف۔ جس نے یہ کہہ کر سارے منصوبے کا ستیاناس کردیا کہ’’اس سسٹم کو مصنوعی ذریعوں سے گرانے کی بجائے خود گرنے دیں‘‘۔ شاید اندرخانے نوازشریف اور شہباز شریف کا یہ اتفاق بھی تھا کہ اگر اس کھیل میں اقتدار کا ہما خاندان سے باہرکسی کے سرپر بیٹھ گیا تونہ صرف ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں بچے گا بلکہ پارٹی کو کنٹرول کرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔اس انکار کے بعد شہبازشریف نے وطن واپس آکر طاقتوروں کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہوئے اپنی مجبوریوں کی کتھا سنائی۔ یوں مشکل سے تیارکیا گیا سارا منظر نامہ ردی کی ٹوکری کی نذر ہوگیا۔ اسی دوران کورونا نے پاکستان سمیت دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور توجہ سیاست سے ہٹ کر صحت کی جانب مبذول ہوگئی۔دوسری طرف عمران خان بھی شہباز شریف کےبارے میں

پوری سن گن رکھتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے مشیراحتساب بیرسٹرشہزاد اکبر کوہدایت کی۔ یوں شہباز شریف کونیب کے ذریعے اندرکرانے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع ہوگیا۔ مگر شہبازشریف کو طاقتوروں نے بچا لیا۔نوازشریف اور شہبازشریف میں تبدیلی کے لیے نئے انتخابات پرمکمل اتفاق ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ایسی صورت میں پنجاب میں ان کی جماعت مسلم لیگ ن ہی کلین سوئپ کرے گی۔ اسطرح شریف خاندان عوامی طاقت سے آزادانہ فیصلے کرے گا۔ یہ بات شایدطاقتور حلقوں کو پسند نہیں۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…