جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بائیکاٹ کی مہم سوشل میڈیا پر زور پکڑ گئی، انتہائی تہلکہ خیز پیغامات

datetime 28  جون‬‮  2020 |

اسلام اباد (آن لائن) نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بائیکاٹ کی مہم سوشل میڈیا پر زور پکڑ گئی۔ آئل بحران کے دنوں میں پی ایس او کے علاوہ دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پٹرول ذخیرہ کرنے کے لیے فنی خرابی کے بورڈ لگا کر پٹرول کی فروخت بند کر دی تھی جس کیوجہ سے عوام پٹرول کی تلاش میں خوار ہوتی رہی۔ اس طر ح ان کمپنیوں نے پٹرول ذخیرہ کر کے اربوں روپے کا ناجائز منافع کمایا تھا۔

جبکہ پاکستانی اسٹیٹ آئل کمپنی کے پمپوں پر صرف تیل دستیاب تھا۔ جس وجہ سے اوگرا نے متعدد کمپنیوں کو کروڑوں روپے جرمانہ کیا مگر انہی کمپنیوں نے قبل از وقت پٹرول مہنگا ہونے کے باعث اب دوبارہ سے اربوں روپے کما لیے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم اور پیغامات میں کہا جارہا ہے کہ کل سے پورے ملک میں پیٹرول وافر مقدار میں ملے گا کیونکہ پیٹرول فی لیٹر 100 روپے کا تقریبا ہو گیاہے ان پیغامات میں کہا جارہا ہے چونکہ سرکاری ادارے کاروائی کرنے میں بے بس ہیں وہ صرف تنخواہیں لے سکتے ہیں اس لیے نجی کمپنیوں نے کچھ دن پہلے آپ لوگوں کو پٹرول کے لیے ذلیل کیا تھا آج آپ کا دن ہے نجی کمپنیوں سے بالکل بائیکاٹ کردیں ان سے پٹرول لینا بند کردیں۔پیٹرول صرف اور صرف PSO سے ڈلوائیں بلکہ غیر سرکاری پمپوں پر جائیں اور کہیں کل جب سستا تھا تو نہیں دیتے تھے اب ہم پی ایس او سے ڈلوائیں گے۔غیر سرکاری کمپنیوں سے صرف 10 دن ان سے پٹرول نا خریدو مکمل بائیکاٹ کرو۔  آئل بحران کے دنوں میں پی ایس او کے علاوہ دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پٹرول ذخیرہ کرنے کے لیے فنی خرابی کے بورڈ لگا کر پٹرول کی فروخت بند کر دی تھی جس کیوجہ سے عوام پٹرول کی تلاش میں خوار ہوتی رہی۔ اس طر ح ان کمپنیوں نے پٹرول ذخیرہ کر کے اربوں روپے کا ناجائز منافع کمایا تھا۔ جبکہ پاکستانی اسٹیٹ آئل کمپنی کے پمپوں پر صرف تیل دستیاب تھا۔ جس وجہ سے اوگرا نے متعدد کمپنیوں کو کروڑوں روپے جرمانہ کیا مگر انہی کمپنیوں نے قبل از وقت پٹرول مہنگا ہونے کے باعث اب دوبارہ سے اربوں روپے کما لیے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…