جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

پاکستانی عوام اگر بنی اسرائیل قوم کی طرح اپنے آپ کو اللہ کی چہیتی قوم سمجھتی ہے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے،کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے دگنی ہے، معروف ڈاکٹر نے انتہائی اہم بات کردی

datetime 25  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن ) پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر افتخار برنی نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس میں مبتلاء افراد کاجو سرکاری اعداد و شمار بتایا جا رہا ہے حقیقت میں مریضوں کی تعداد اس سے دگنی ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام اگر بنی اسرائیل قوم کی طرح اپنے آپ کو اللہ کی چہیتی قوم سمجھتی ہے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے ،

اگر چہ پاکستان میں امریکہ اٹلی اور دیگر ممالک کی نسبت کورونا کے کیسز کم ہیں لیکن ان کی تعداد پاکستان کے پاس موجود وسائل کے مقابلے میں بڑھتی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نے مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کے ساتھ نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی آئی ایم اے کے صدر ڈاکٹر افتخار نے کہا کہ اب ہسپتالوں میں گنجائش جواب دیتی نظر آ رہی ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں جو صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے اس سے لڑنے کیلئے صرف احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد کرنا ہو گا کیونکہ ابھی تک اس کی کوئی ویکسین موجود نہیں ، حکومت جو سمارٹ لاک ڈائون لانا چاہتی ہے اس کی وجہ سے خطرے کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ اس سمارٹ لاک ڈائون پر صحیح طرح عمل در آمد نہیں ہو گا ، حکومت کو چاہیے کہ وہ سخت لاک ڈائون متعارف کروائے جو کہ مزید دوسے تین ہفتے تک برقرار رہے ، اس دوران تمام تر سرگرمیوں پر سخت پابندی عائد کی جائے اور تاجر برادری کو چاہیے حکومت کے ساتھ تعاون کرے تاکہ اس وبائی مرض سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذہبی شخصیات سے بھی گزارش ہے کہ وہ دل پر پتھر رکھ کر مساجد پر بندش برقرار رکھیں کیونکہ اس وجہ سے کورونا کے کیسز میں مزید اضافہ ہو رہا ہے ، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز خان نے کہا کہ یہ وبائی مرض ابھی کچھ مہینے مزید چلے گی،

کب تک چلے کچھ نہیں کہہ سکتے ،بچائو کا واحد طریقہ صرف اور صرف احتیاط ہے،ویکسین بننے میں مہینوں لگ سکتے ہیں، جبکہ پیما راولپنڈی کے صدر ڈاکٹر آصف نوازنے کہا کہ علماء اور حکومت کے درمیان کو ئی معاہدہ تہہ پایا ہے اس پر عملدرآمد ممکن نہیں،جب آپ نے مسجد میں داخلہ کردیا تو احتیاط مشکل ہہے ، مساجد میں زیادہ تر لوگوں کی تعداد پچاس سال سے اوپر ہے اور اس عمر کے لوگوں کو اس بیماری سے زیادہ خطرہ ہے ، پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن اسلام آباد ڈاکٹر فضل ربی نے کہا کہ پاکستان میں کل چار ہزار وینٹی لیٹرز ہیں، ایسے میں اس بات کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کس کو وینٹی لیٹر پر ڈالا جائے کس کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے، ہمارے ملک میں کورونا کے ٹیسٹ کم ہونے کے باعث مریضوں کی تعداد، کم ہے، پراپر کٹس نہ ملنے کے باعث دو سو ڈاکٹرز کورونا کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں، عوام سے گزارش ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…