جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

امریکی خاتون 50 سعودی طلبہ و طالبات کی ماں بن گئی، سعودی عرب کی زمین پر قدم رکھا تو کیا محسوس ہوا؟ برڈ جیٹ میلی کی شاندار باتیں

datetime 23  فروری‬‮  2020 |

ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی عرب کے طلبہ وطالبات حصول تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ صرف اس لیے نہیں کرتے کہ انہیں وہاں پراعلیٰ معیار کی تعلیمی سہولیات میسر ہوتی ہیں بلکہ اْنہیں امریکہ میں جو محبت بھری میزبانی ملتی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ امریکہ میں سعودی طلبہ و طالبات کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ کی ایک زندہ علامت کیلی فورنیا ریاست میں رہنے والی برڈ جیٹ میلی ہیں جو سعودی طلبہ کی امریکی ماں کے لقب سے مشہور ہیں۔

کیلیفورنیا کی بریڈ جیٹ میلی نے اسکالرشپ پر امریکہ میں حصول تعلیم کے لیے آئے 50 سعودی طلباء وطالبات کو اپنے گھر میں رکھا اور ان کی ایک ماں کی طرف خدمت اور میزبانی کی۔ وہ ایک سعودی طالب علم کی دعوت پرحال ہی میں مملکت کے دورے پر آئی ہیں۔ سعودی عرب پہنچنے کے بعد امریکہ میں سعودی طلباء کی ماں کا درجہ حاصل کرنے والی امریکی خاتون نے بتایا کہ میری اپنی کوئی اولاد نہیں مگر دوسرے ملکوں سے آئے طلباء ہی میری اولاد ہیں۔ وہ مجھے’امی جان’ کہہ کر پکارتے ہیں تو ایسے لگتا جیسے میری حقیقی اولاد مجھے آواز دے رہی ہے۔ میں پوری دنیا سے آنے والے طلباء کی میزبانی کرتی ہوں جن میں بیشترکا تعلق سعودی عرب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اس سے قبل سعودی عرب نہیں آئی مگر جیسے ہی میں مملکت میں قدم رکھا تو مجھے یہ ملک مانوس سا لگا۔ یا للعجب یہ قصہ کیا ہے؟ مْجھے تو ایسے لگتا ہے کہ میں نے اسے پہلے بھی دیکھ رکھا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں امریکا میں تعلیم کے حصول کے لیے آنے والے طلباء کو اپنے گھر میں ٹھہراتی۔ ان طلباء کا تعلق سعودی عرب کے مختلف شہروں سے ہوتا۔ وہ مْجھے سعودی عرب کے شہروں، یہاں کے ملبوسات، مشہور مقامات، لوگوں کے طبائع اور پکوانوں کے بارے میں باتیں بتاتے۔ برڈ جیٹ میلی کا کہنا ہے کہ مْجھے عربی کھانے بہت پسند ہیں اور میں خود کئی عرب پکوان بنا لیتی ہوں۔ میں یہاں ان کے ذائقے محسوس کرتی ہوں۔ لذیذ عرب کھانے بہت بہاتے ہیں۔ یہ پکوان وافر مقدار میں ہونے کے ساتھ ساتھ بہت لذیذ بھی ہیں۔ میلی کے گھر میں قیام کرنے والے ایک سعودی طالب علم محمد نے بتایا کہ اپنی امریکی میزبان کو اپنے گھر پر دعوت دی۔ محمد کا کہنا ہے کہ میرے اہل خانہ بہت جلد برڈ جیٹ میلی سے مانوس ہو گئے۔ وہ بہت محبت کرنے والی اور چیزوں کو جلدی سمجھنے والی ہیں۔ وہ میرے خاندان کے ساتھ ایسے گھل مل گئیں جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…