منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گورنر اسٹیٹ بینک کی رپورٹ نام نہاد معاشی ارسطوؤں کے منہ پر کالک اور بلند و بانگ دعویداروں کے لئے ڈوب مرنے کامقام، حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان قرار دیدیا گیا

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی نے گورنر سٹیٹ بینک کی رپورٹ کو حکومت کارکردگی پر سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے گورنر سٹیٹ بینک کی رپورٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک نے گڈ گورنس کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی طرف سے مہنگائی میں مسلسل اضافے

اور معاشی سست روی کی بدترین سطح نام نہاد معاشی ارسطووں کے منہ پر کالک اور بلند و بانگ دعویداروں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ گورنر سٹیٹ بینک نے گڈ گورنس کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے کہ مہنگائی 12فیصد تک رہے گی۔ نیر بخاری نے مزید کہا کہ پی پی پی حکومت نے گندم کی قیمت اضافہ کیا،پیپلز پارٹی دور میں ملک گندم میں خود کفیل تھا اورنئے پاکستان میں زرعی شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے، کسان کاشتکار اپنے پیداواری آٹا دالیں چینی خریدنے سے قاصر ہے۔ نیر بخاری نے مزید کہا کہ ملکی معیشت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے چنگل میں دینے کا نقصان ملک اور خمیازہ عوام الناس بھگت رہے ہیں ملکی معیشت کا پہہ الٹانے اور مہنگائی,بیروزگاری,معاشی بدحالی کے زمہ دار شیخ چلی اور اسکے چیلے ہیں خوشحال پاکستان کے دعویداروں نے معیشت بدحال ترین کر دی ہے معاشی سست روی بدترین سطح پر آگئی ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ بے روزگاری مہنگائی بھوک افلاس سے تنگ عوام “بے نیازی” حکمرانوں سے نجات چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی مافیاز مزید خوشحال اور غریب خودکشیوں پر محبور ہیں۔ نیر بخاری نے مزید کہا کہ شہری بجلی گیس بل اور ٹیکس ادا کرنے سے مجبور کر دئے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…