جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ایم کیو ایم نے اچانک وزارت سے استعفیٰ دیا اور یہ اعلان کیا ہم نے طلاق لے لی، کیا یہ حکومتی اتحاد کے بکھرنے کا نقطہ آغاز ہے؟ دوسرے اتحادی اخترمینگل‘ جی ڈی اے اور آزاد ارکان بھی چند دنوں میں کیا کریں گے، کیا حکومت کمزور ہو رہی ہے، جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 13  جنوری‬‮  2020 |

دیوان سنگھ مفتون متحدہ ہندوستان کے ایک مشہور صحافی تھے، یہ دہلی سے ریاست نام کا رسالہ نکالتے تھے اور لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر یہ رسالہ خریدتے تھے، ان کی آپ بیتی اردو کی شان دار ترین کتابوں میں شامل ہے‘ مفتون صاحب نے اپنی کتاب میں کپڑے بیچنے والے ایک دکان دار کا ذکر کیا‘ وہ روز تھان سے کپڑا پھاڑ کر گاہکوں کو بیچتا تھا‘ وہ کپڑا بیچتے بیچتے کپڑا پھٹنے کی آواز کا ایڈیکٹ ہو گیا‘

قسمت کی خرابی سے اس کی دکان بند ہو گئی‘ اب وہ کپڑا پھاڑ نہیں سکتا تھا‘ اس نے اس کا ایک دل چسپ حل نکالا‘ وہ روز ایک گز کپڑا خریدتا تھا‘ قینچی سے اس کا کنارہ کاٹتا تھا اور اپنے ہاتھ سے پورا گز کپڑا پھاڑ دیتا تھا‘ وہ ایک گز کپڑے کے بے شمار چھوٹے پیس کرتا تھا اور کپڑا پھاڑ پھاڑ کر اپنا دن گزار لیتا تھا۔ کل جب ایم کیو ایم نے اچانک وزارت سے استعفیٰ دیا اور یہ اعلان کیا ہم نے طلاق لے لی لیکن ہم رہیں گے ایک ہی گھر میں تو مجھے بے اختیار دیوان سنگھ مفتون کا یہ کردار یاد آ گیا اور مجھے محسوس ہوا شاید ایم کیو ایم بھی خود کو ”ار ریلی وینٹ“ سمجھ رہی تھی‘ یہ دیکھ رہی تھی ہم نہ تین کی خبر میں ہوتے ہیں اور نہ تیرہ کی خبر میں چناں چہ انہوں نے بھی خرید کر کپڑا پھاڑنا شروع کر دیا اور پورے ملک کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ کیا ایم کیو ایم صرف اپنا وجود منوا رہی ہے‘ کیا یہ حکومت کو یہ بتا رہی ہے ہم بھی یہاں بیٹھے ہیں یا پھر یہ واقعی کراچی کے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہے‘ یہ فیصلہ آنے والے چند دنوں میں ہو جائے گا لیکن حکومت کے ساتھ آج ان کے مذاکرات ناکام ہو گئے، کیا یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے یا پھر یہ حکومتی اتحاد کے بکھرنے کا نقطہ آغاز ہے کیوں کہ حکومت کے دوسرے اتحادی اخترمینگل‘ جی ڈی اے اور آزاد ارکان بھی چند دنوں میں حکومت پر دباؤ بڑھائیں گے‘ کیا حکومت کمزور ہو رہی ہے، لاہور ہائی کورٹ نے آج جنرل پرویز مشرف کے خلاف فیصلے اور خصوصی عدالت دونوں کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…