جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

امریکی ہوائی اڈوں پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی طرز پر ایران کی جانب سے کیا حیران کن قدم اٹھایا گیا؟

datetime 8  جنوری‬‮  2020 |

تہران(آن لائن) امریکی اڈوں پر حملے کے بعد ایرانی پرچم ٹویٹ کردیا گیا۔ ایران کے آفیشل نمائندوں نے امریکا کے ہوائی اڈوں پر حملے کرنے کے بعد ایران کا پرچم ٹویٹ کردیا ہے، پرچم کا ٹویٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ٹویٹ کے ردعمل میں کیا گیا جب امریکی صدر نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاک کے بعد اپنا پرچم ٹویٹ کیا تھا۔

مگر اب صورتحال بلکل مختلف نظر آتی ہے ایرانی آفیشل کی جانب سے امریکی صدر کو ٹرول کرنے کیلئے ایرانی پرچم ٹویٹ کر دیا گیا ہے۔واضح رہے اس سے قبل امریکا کی جانب سے ایرانی جنرل قاسلم سلمانی کو قتل کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ نے ایرانیوں کو آگ بگولہ کردیا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹراکاونٹ سے امریکی پرچم لگا دیا گیا۔پینٹا گون کی جانب سے ایرانی جنرل قاسم سلمانی کی ہلاک کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیا تھا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ٹویٹ کو امریکی شہریوں کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، ایک امریکی شہری ٹویٹر صارفین نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ماضی یاد دلائی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک دن سابق امریکی صدر اوباما ایران پر حملہ کر دیں گے۔ایک صارف نے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پرچم کی تصویر اس لئے لگائی ہے کیونکہ کسی نے پوچھ لیا تھا کہ پرچم پر کتنے ستارے بنے ہوئے ہیں۔ مگر اب ایران نے حملے کا بدلا لینے کے بعد ڈونلڈٹرمپ کی طرح اپنے ملک کا پرچم ٹویٹ کرکے بھی حساب برابر کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…