جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

ہم آج بھی تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں، آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی، توسیع اور نئی تعیناتی بے معنی ہے، آئین وزیراعظم کو ایکسٹینشن کا کوئی اختیار نہیں دیتا، تفصیلی فیصلے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے پاس کیا کیا آپشن ہیں؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 16  دسمبر‬‮  2019 |

پاکستان میں پچھلے 48 سال سے سال کا اختتام انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ ہوتا ہے، 16دسمبر 1971ء کو پاکستان دو حصوں میں تقسیم گیا تھا‘ قوم ہر 16 دسمبر کو اس تقسیم کو یاد کرتی ہے اور کف افسوس ملتی ہے‘ پچھلے پانچ سال سے اس افسوس میں اے پی ایس پشاور کے 149 بے گناہوں کا خون بھی شامل ہو گیا،

ان ایک سو انچاس لوگوں میں 132 بچے تھے، آج چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان دونوں سانحوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، یہ دونوں پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین باب ہیں، یہ دونوں واقعات غفلت، غیر سنجیدگی اور حقائق کو تسلیم نہ کرنے جیسی حماقتوں کا نتیجہ ہیں، ہم اگر ان دونوں واقعات سے سنبھل جاتے تو شاید ہم آج جیسے نہ ہوتے لیکن افسوس ہم سوگ منانے کے باوجود سنبھل نہیں سکے، آپ دیکھ لیجیے حمود الرحمن کمیشن رپورٹ سانحہ کے 29 برس بعد منظر عام پر آئی اور یہ بھی پاکستان سے پہلے انڈیا میں چھپی تھی اور ہم نے پانچ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک سانحہ اے پی ایس کی رپورٹ بھی جاری نہیں کی، کیا یہ حقیقت یہ ثابت نہیں کرتی ہم آج بھی تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم آخر کب سنبھلیں گے‘ ہم آخر کب سیکھیں گے، سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی ایکسٹینشن سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ اگر چھ ماہ میں قانون سازی نہیں کرتی تو جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائر سمجھے جائیں گے، جنرل باجودہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی وزارت دفاع کی سمریوں کی کوئی حیثیت نہیں، صدر، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی جانب سے دوبارہ تعیناتی، توسیع اور نئی تعیناتی بے معنی ہے، آئین وزیراعظم کو ایکسٹینشن کا کوئی اختیار نہیں دیتا، تفصیلی فیصلے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے پاس کیا کیا آپشن ہیں؟

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…