جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

وحید ڈوگر نے جائیدادوں کی نشاندہی کی ، کوئی دستاویزات نہیں دیں ،وکیل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ،دلائل کب مکمل کرینگے؟بتا دیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس معاملہ پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ وحید ڈوگر نے جائیدادوں کی نشاندہی کی ، کوئی دستاویزات نہیں دیں ، شکایت کیساتھ مواد فراہم کرنا متعلقہ شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

کوشش کرونگا دو سے تین دن میں دلائل مکمل کر لوں جبکہ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاہے کہ کیس کی وجہ سے عدالتی کام بہت متاثر ہو رہا ہے، عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے اس لیے فل کورٹ بیٹھی ہے،ججز کی نگرانی ، جاسوسی، کردار کشی پر دلائل سنیں گے۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس معاملہ پر جسٹس فائز عیسی اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کے دور ان دلائل دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ وحید ڈوگر نے تین ججز کی بیرون ملک جائیدادوں کی شکایت کی، ڈوگر نے جائیدادوں کی نشاندہی کی لیکن کوئی دستاویزات نہیں دیں۔منیر اے ملک نے کہاکہ ایسی شکایت صدر یا جوڈیشل کونسل کو ملتی تو باہر پھینک دی جاتی، وحید ڈوگر نے شکایت صدر کے بجائے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو دی۔ انہوںنے کہاکہ شکایت کو سنجیدہ لیکر کاغذ پورے کرنے کی کوشش کی گئی۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ وحید ڈوگر کتنا پڑھا لکھا ہے؟۔وکیل جسٹس قاضی عیسیٰ عائز نے کہاکہ میری نظر میں وحید ڈوگر پراکسی ہے۔ جسٹس مظہر عالم نے کہاکہ صدر کو ججز کیخلاف شکایت کا علم کب ہوا؟ ۔ منیر اے ملک نے کہاکہ وزیراعظم کی ایڈوائس ملنے پر ہی صدر کو علم ہوا۔

وحید ڈوگر کو فریق بنایا تھا لیکن اس نے جواب جمع نہیں کرایا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آپ کے مطابق ڈوگر کو کاغذی کارروائی کیلئے سامنے لایاگیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ دستاویزات موجود ہوتی تو وزارت قانون خود شکایت بھجوا دیتی۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ بعض اوقات ڈرائیورز بھی بتا دیتے ہیں کہ صاحب چھٹیاں گزارنے کہاں جاتے ہیں۔منیر اے ملک نے کہا کہ شکایت کیساتھ مواد فراہم کرنا متعلقہ شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

کوشش کرونگا دو سے تین دن میں دلائل مکمل کر لوں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ اس کیس کی وجہ سے عدالتی کام بہت متاثر ہو رہا ہے، عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے اس لیے فل کورٹ بیٹھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ججز کی نگرانی ، جاسوسی، کردار کشی پر دلائل سنیں گے۔ رضا ربانی نے کہاکہ جسٹس کے کے آغا کے ریفرنس پر بھی دلائل دوں گا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کے کے آغا نے درخواست دائر نہیں کی، تعین کرینگے ریفرنس آگے چلنا ہے یا یہاں ختم ہونا ہے۔ وکیل سندھ بار کونسل رضا ربانی نے کہاکہ ریفرنس کالعدم ہونا چاہیے۔ بعد ازاں سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کر د ی گئی ۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…