منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ صفورا، 15دہشت گردوں میں سے 8شوٹر تھے ، دیگر نے ریکی کی

datetime 15  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سانحہ صفورہ میں گرفتار دہشت گردوں کے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، دہشت گرد گروپ میں تقریبا 15 لوگ ہیں جن میں سے 8شوٹرز جبکہ دیگر ریکی اور دوسرے کام کرتے ہیں، سانحہ صفورہ کا منصوبہ گلشن اقبال کے ایک ہوٹل میں بنا، بس پر حملہ ایک دن پہلے کیا جانا تھا تاہم دہشتگردوں کے تاخیر سے پہنچنے پر حملہ ایک دن کے لیے ملتوی کردیا گیا، ذرائع کے مطابق سانحہ صفورہ کے گرفتار ملزمان کا جھوٹ پکڑنے والی مشین سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے، تحقیقاتی حکام بتاتے ہیں سانحہ صفورہ میں ملوث دہشتگردوں کا گروپ تقریبا 15دہشتگردوں پر مشتمل ہے،جن میں 7 سے 8 دہشتگرد شوٹرز ہیں جبکہ دیگر ریکی اور دیگر کام کرتے ہیں، کسی بھی دہشتگرد نے دوسرے کا گھر نہیں دیکھااورکسی کو دوسرے کا اصل نام نہیں معلوم،کوئی بھی دہشتگرد موبائل فون استعمال نہیں کرتا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سانحہ صفورہ کا منصوبہ گلشن اقبال کے ایک ہوٹل میں بنا تھا، منصوبے کا ماسٹر مائنڈ طاہر تھا اور اس سلسلے میں کئی میٹنگز ہوئی، طاہر ہر میٹنگ کا حصہ تھا، سانحہ صفورہ کے لیے ہر دہشتگرد کو مختلف پوائنٹس دیئے گئے تھے، اور حملہ ایک دن پہلے کیا جانا تھا اور تمام دہشتگرد موقع پر پہنچے بھی، تاہم دیر سے پہنچنے پر دہشتگردی کی انتہائی بھیانک واردات کو ایک دن کے لیے موخر کیا گیا، سانحہ صفورہ کی منصوبہ بندی طاہر نے ترتیب دی، ذہن میں یہ آئیڈیا انھیں گزرتے دیکھ کر آیا، سانحہ صفورہ میں 10 دہشتگرد شامل تھے جو ایک گاڑی اور موٹرسائیکلوں پر تھے۔

مزید پڑھئے:خواتین کے چہرے کی رنگت کب سرخ ہو جاتی ہے،سائنسدانو ں نے اہم رازسے پر دہ اٹھا دیا

تمام دہشتگردوں کے پاس اسلحہ تھا۔ دہشتگردوں کے پاس 2 کلاشنکوف اور 8 نائن ایم ایم پستول موجود تھے۔ بس کے اندر فائرنگ چار دہشتگردوں نے کی، جس میں ایک کلاشنکوف اور تین نائن ایم ایم پستول استعمال کیے گئے، فائرنگ میں استعمال ہونےو الی دو نائن ایم ایم پستولوں پر سائلنسر لگے ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…