بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بیرون ملک سے آنے والوں کا ڈیٹا چوری،موبائل فونز رجسٹریشن کی آڑ میں بڑے پیمانے پر فراڈکا انکشاف

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)موبائل فونز رجسٹریشن کی آڑ میں ایک مافیا کا بڑے پیمانے پر فراڈکا انکشاف ہوا ہے،بیرون ملک سے آنے والوں کا ڈیٹا چوری کر کے موبائل رجسٹر کئے گئے رپورٹس کے مطابق ایک مافیابیرون ملک سے آنے والے مسافروں کا ڈیٹا چوری کرتاہے اور پھر قیمتی موبائل فونز کو رجسٹر کرتا ہے،

موبائل فون کی درآمد سے جمع کیے گئے ٹیکس مالی سال 2018ء کے ابتدائی 4 مہینوں میں 29ارب 90کروڑ روپے تھے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں 15 ارب 1کروڑ روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا ہے درآمد کئے گئے موبائل فونز کی تعداد 6لاکھ ہے جو انتہائی مہنگے بھی ہیں۔اس حوالے سے گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی مواصلات کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ ڈیوٹی فری موبائل فون درآمد کی اجازت دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں چیئرمین ایف بی آر شبیر زیدی نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ آنے والے دنوں میں یہ سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے رکھیں گے اس اجلاس میں چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی مواصلات روبینہ خالد نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو قواعد میں موجود خامیوں اور ٹیکسوں کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے پر شدید تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے قوائد اور ٹیکس نہ صرف مقامی شہریوں کو پریشان کررہے ہیں بلکہ خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے گلے کی ہڈی بن چکے ہیں وزارت ِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سے کہا کہ وہ موبائل فون کی درآمد سے متعلق ایف بی آر کی تجاویز کو فوری منظور کرے۔رضوان عباسی #/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…