منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف نے آخر وہ قدم اُٹھا لیا جو انکے ایجنڈے کے مطابق بہت پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

پشاور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ 28 لاکھ آئی ڈی پیز کا بوجھ خیبرپختونخوا حکومت پر پڑا ہوا ہے جبکہ وفاقی حکومت صوبے کو حقوق دینے کے لئے مخلص نہیں جس کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پشاور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے حقوق دینے میں مخلص نہیں جس کی واضح مثال صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے، آئی ڈی پیز کے آنے کے بعد صوبے میں روزانہ لاکھوں مریض سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لئے آتے ہیں تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے تعاون نہ کئے جانے پر عوام کو معیاری سہولیات نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سڑکیں اور پل بنانے کوہی ترقی سمجھتی ہے لیکن اصل ترقی انسانوں پر رقم خرچ کرنے سے ہوگی۔

چیرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت ترقی کے لئے پہلے اسٹرکچر ٹھیک کر رہی ہے جس کے لئے پہلے مرحلے میں تعلیم اور انصاف کے نظام پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی  کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اے این پی کو آئندہ 2 سے 3 سال تک کچھ نہیں بولنا چاہیئے کیوں کہ ان کے دور میں جو کچھ ہوا عوام اس سے واقف ہیں اور ان کے خلاف اب تک کچھ نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن اب ایک آزادی کمیشن نے صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد جنرل حامد کو  نیب کا صوبائی سربراہ مقرر کیا ہے جو گزشتہ 5 سال میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کریں گے اور اگر موجودہ حکومت کے بھی کسی محکمے میں  کرپشن دکھائی دی تو اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…