بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

 دفاعی شعبے میں تعاون تسلی بخش نہیں،وزیراعظم عمران خان کے دورے کے منتظر ہیں، فرانس نے پاکستان کو بڑی پیشکش کردی

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آ ن لائن) فرانس کے سفیر مارک باریٹی نے کہا ہے کہ ہمارا ملک 11 نومبر کو وزیراعظم عمران خان کے دورے کا منتظر ہے جہاں ان کو ورلڈپیس فورم میں شرکت کی دعوت دی جا چکی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون تسلی بخش نہیں۔ اس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو دلیرانہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ فرانس کی کمپنیاں پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔

دونوں ملک اس حوالے سے روڈ میپ تیار کر رہے ہیں۔ اگلے ماہ دستخط ہو جائیں گے۔ سفیر انگلش سپیکنگ یونین کی طرف سے دوطرفہ تعلقات کے موضوع پر منعقدہ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام یونین کے صدر خالد ملک نے اپنی رہائش گاہ پر کیا تھا۔ اس موقع پر جرمنی کے سفیر اور یورپی یونین کی سفیر اندرولا اے کے منارا بھی موجود تھیں۔ یاد رہے کہ فرانس اور جرمنی یورپی یونین کے دو مرکزی ممالک شمار کئے جاتے ہیں۔ سفیر فرانس نے دوطرفہ تعلقات کی موجودہ سطح اور مستقبل کے امکانات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور سوالوں کے جواب بھی دئیے۔ یونین کے سیکرٹری جنرل عابد علی اور سابق وفاقی وزیر، وزیر احمد جوگیزئی نے سفیر کا خیرمقدم کیا جبکہ خالد ملک نے تعارفی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ انگلش سپیکنگ یونین کی سرپرست برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اور چیف ایگزیکٹو پرنس فلپ ہیں اور یہ عالمی سطح پر ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ سفیر مارک باریٹی نے کہا کہ ہمارے درمیان بہت سی مشترکہ اقدار ہیں۔ اقوام متحدہ میں اکٹھے کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا خلیج میں کردار ہمارے مطابق تھا۔ پاکستان نے دہشتگردی ختم کی۔ ماحولیاتی تغیرات سے متاثرہ ملکوں میں پاکستان 7 ویں نمبر پر ہے۔ تعاون بڑھنے کے وسیع امکانات ہیں۔ پاکستان بارے مجھے ایک بات ہی ناپسند ہے اور وہ یہ کہ یہاں اتنے زیادہ مقامات اور مواقع ہیں کہ مختصر وقت میں دیکھے نہیں جاسکتے۔

جدھر جاتا ہوں نئی بات اور نئی چیز دیکھنے کو ملتی ہے۔ بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ قدرتی وسائل ہیں، ورثہ ہے، فرانس یورپی یونین کا گیٹ وے ہے۔ ہمارے پاس زراعت، ٹورازم، ہائی ٹیک ہے، 6 ہزار پاکستانی طلباء فرنچ زبان سیکھ رہے ہیں۔ فرانس اُچ پاور 2-1 اور اب 3 میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ہماری ٹوٹل پٹرولیم پاکستان میں کام کر رہی ہے۔ دوطرفہ تعاون وسیع کرنا ہے۔ آخری وزارتی اجلاس 2007ء میں ہوا تھا۔ گزشتہ سال ہماری 30  کمپنیوں کے نمائندے پاکستان آئے۔

ٹیکسٹائل، لیدر اور فٹ ویئر سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہم تیار ہیں۔ پاکستانی بزنس مین بولڈ قدم اٹھائیں۔ روڈمیپ تیار کر رہے ہیں۔ دفاع میں تعاون کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ فرانس سالانہ 6 ہزار ویزے جاری کرتا ہے۔ ویزا مشکل نہیں اگر معیارات پورے کر لئے جائیں۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان ویزے کے لئے فرینڈلی لسٹ میں نہیں۔ زراعت، پانی کا انتظام، قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں زیادہ کام ہو سکتا ہے۔ یہ بڑے سیکٹر ہیں۔ الائنس فرنچائز لاہور، کراچی، اسلام آباد میں کام کر رہے ہیں۔ پشاور بند کرنا پڑا مگر وہاں بھی کام ہو رہا ہے۔ پاکستان جی ایس پی سے مزید فوائد اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سفر تاریخ میں سفر کرنے جیسا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…