جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

حکومت کالعدم تنظیم لشکر طیبہ اور جیش محمد کو پیسہ جمع ، لوگوں کو بھرتی کرنے اور ان کی تربیت کو نمایاں حد تک روکنے میں ناکام ہوگئی ،امریکا نے پاکستانی اقدامات پر عدم اطمینان کااظہار کردیا‎‎

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(آن لائن) امریکا نے پاکستان کی طرف سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے اقدامات کو ناکافی قرار دے کر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔ امر یکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے عالمی معیارات پر عمل پیرا ہے۔

منی لانڈرنگ کو جرم میں بھی قرار دے چکا ہے لیکن اس کے اقدامات تاحال غیر متوازن ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی سے متعلق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں گزشتہ برس کے دوران عالمی دہشت گردی سے متعلق امریکا کے سرکاری جائزے کی نمائندگی کرتی ہے جس میں مختلف ممالک کے جائزے بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے علاقائی طور پر منسلک ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کا رکن ہونے کی حیثیت سے پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے طے کردہ معیار پر پورا اترنے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔اس میں کہا گیا کہ ‘ تاہم حکومت کالعدم تنظیم لشکر طیبہ اور جیش محمد کو پاکستان میں پیسہ جمع کرنے، لوگوں کو بھرتی کرنے اور ان کی تربیت سے نمایاں حد تک روکنے میں ناکام ہوگئی اور کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ تنظیموں کے امیدواروں کو جولائی میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی۔رپورٹ میں یہ شکوہ بھی کیا گیا کہ پاکستانی حکومت نے افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان سیاسی مفاہمت کی حمایت کی لیکن ‘ اسلام آباد نے پاکستان میں موجود طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم نہیں کیا اور افغانستان میں امریکی اور افغان فورسز کے لیے خطرہ بننے سے نہیں روکا۔

۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی مذکورہ رپورٹ سال 2018 میں ہونے والی پیش رفت پر مبنی ہے اس میں گزشتہ 10 ماہ کے دوران پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے سے متعلق کیے جانے والے اقدامات شامل نہیں ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ برس جون میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں ناکام ہونے والے ممالک کی فہرست ‘گرے لسٹ ‘ میں شامل کیا تھا۔

ایف اے ٹی ایف نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں لشکر طیبہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔اس حوالے سے امریکی رپورٹ میں ایف اے ٹی اف کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کے قوانین تکنیکی طور پر انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے عالمی معیار کے تابع ہیں لیکن حکام اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں اور افراد جیسے کالعدم لشکر طیبہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے خلاف پابندیوں پر مکمل طور پر عملدرآمد میں ناکام ہوگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…