بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

القدس فورس نے سول کارگو طیاروں کے ذریعے شام میں فوجی منتقل کئے

datetime 30  اکتوبر‬‮  2019 |

تہران(آن لائن)ایران کی سمندر پار آپریشنل کارروائیوں کے لیے تشکیل دی گئی ‘القدس فورس’ کے ایک کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ وہ عوامی نقل وحمل کے لیے استعمال ہونے والے ہوائی جہازوں میں فوجیوں اور جنگجوئوں کو شام لے جاتے رہے ہیں۔خیال رہے کہ

ایرانی فضائی کمپنیوں کے طیاروں کے ذریعے شام، یمن، عراق اور خطے کے دیگر تنازعات کا شکار علاقوں میں فوجیوں، ساز وسامان اور میزائلوں کی نقل وحمل کے لیے استعمال کرنے پر امریکا اور یورپی یونین نے پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے ایک کمانڈر نصرت اللہ بور حسینی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ‘ماھان’ فضائی کمپنی کے طیارے شام کو فورسز کو منتقل کرنے میں ہماری مدد کر رہے ہیں حالانکہ دمشق ہوائی اڈے پر گولہ باری کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران ہر اس ملک کی مدد کرتا ہے جس کے ساتھ اس کا دوستی کا معاہدہ ہے۔ شام ہمارا دوست اور اتحادی ہے اور ہم اس کی ہر ممکن طریقے سے مدد کر رہے ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی مہان ایئر لائنز پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مہان ایئرلائن نے غیر ملکی جنگجوں، اسلحہ اور رقم کی نقل وحمل ایرانی پاسداران انقلاب، اس کی ملیشیاں اور علاقائی ایجنٹوں کی مدد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔گذشتہ ایک سال کے دوران امریکا نے ایران کے 11 اداروں اور افراد پر مالی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان پر مہان ایئر کے ساتھ تعاون یا ڈیل کا الزام ہے۔ ان میں مالیاتی خدمات کے بینک، ہوائی جہاز کے پرزے خریدنے والی کمپنیاں اور عام سیلز ایجنٹ شامل ہیں جو ملائشیا، تھائی لینڈ اور آرمینیا میں اس کمپنی کی مدد کرتے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…