پیر‬‮ ، 02 فروری‬‮ 2026 

نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو مبینہ طور پر 2016ءمیں دی گئی رشوت،امریکہ نے بھی تحقیقات شروع کردیں،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 28  اکتوبر‬‮  2019 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکہ نے ابراج گروپ کے بانی کے خلاف پاکستان میں سینئر سیاستدانوں کو رشوت دینے بارے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، رواں سال دبئی کی نجی کمپنی ابراج کے بانی اور چیف ایگزیکٹو عارف نگوی کو برطانیہ سے گرفتار کیاگیا اور ان کے منیجنگ ڈائریکٹر مصطفی عبدالودود کو نیویارک کے ہوٹل سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ اپنے بیوی بچوں سمیت ٹھہرے ہوئے تھے، لندن پولیس نے اپریل میں ابراج گروپ کے بانی کو دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کیا تھا،

امریکی پراسیکیوٹرز نے اس پر دھوکہ دہی کے الزامات لگائے، ابراج گروپ 2018ء میں تقریباً دیوالیہ ہو گیا تھا، اس سے قبل اس کا شمار دبئی کی بڑی کمپنیوں میں ہوتا تھا، بعد ازاں عارف نقوی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا، اس کے بعد امریکی پراسیکیوٹر نے ان پر پاکستانی سیاستدانوں کو رشوت دینے کا الزام عائد کیا ہے، فی الحال استغاثہ کی توجہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو مبینہ طور پر 2016ء میں دی گئی رشوت بارے تحقیقات کرنا ہے۔ اس دوران عارف نقوی حکومت سے چینی کمپنی کو بجلی کی تقسیم بار ے تعاون چاہتا تھا، عارف نقوی کے انویسٹرز امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی حکومت، دی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور بینک آف امریکہ تھے، اس کے علاوہ وہ فاؤنڈیشن آف انٹرپول، دی گلوبل پولیس ایجنسی کے فنڈ ریزنگ بورڈ میں شامل تھا، ان پر عالمی بینک اور بل اینڈ میلنڈا فاؤنڈیشن نے کمپنی کے فنڈز کو غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا، ان تمام الزامات کی عارف نقوی نے تردید کی۔ اس کے علاوہ شریف برادران نے بھی ابراج گروپ سے کسی بھی قسم کی معاشی ڈیل کی تردید کی ہے، ان کے وکیل کے مطابق ان سے امریکی پراسیکیوٹرز نے رابطہ نہیں کیا ہے۔ نقوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ موجودہ پرائم منسٹر عمران خان کا بہترین دوست ہے، عارف نقوی نے برطانوی پولیس کو بتایا کہ وہ ان کے بہت پرانے دوست ہیں، وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے عارف نقوی کے بارے کہا تھا کہ انہوں نے عمران خان کی 2013ء کے الیکشن مہم کے دوران دو تہائی رقم خرچ کی تھی۔

یاد رہے کہ ابراج گروپ مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں سب سے بڑا سرمایہ کار گروپ تھا۔ 2002ء میں قائم اس گروپ کے 25 ممالک کے ساتھ ساتھ دبئی، استنبول، میکسیکو سٹی، ممبئی، نیروبی اور سنگاپور میں ریجنل دفاتر ہیں۔پوری دنیا میں گروپ کی 17 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری تھی جس میں 2017 ء کے اختتام تک کمی آتی گئی اور یہ 3 عشاریہ 8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور اس کی وجہ سرمایہ کاروں کی بے اعتمادی بنی جن میں عالمی بینک اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہیں۔دونوں اداروں نے بھارت، پاکستان اور نائیجریا میں سکول اور ہسپتالوں کے قیام کے لیے فنڈز فراہم کیے تھے، عارف نقوی پر الزام ہے کہ دونوں اداروں کے فنڈ ابراج گروپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے جس کے بعد عارف نقوی کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیئے گئے اور سرمایہ کاروں کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…