بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

عراقی فورسز حالیہ ملک گیر مظاہروں میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمے دار قرار

datetime 23  اکتوبر‬‮  2019 |

بغداد(این این آئی)عراقی حکومت کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اکتوبر کے اوائل میں احتجاجی مظاہروں کے دوران میں شہریوں کی ہلاکتیں سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ہوئی تھیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق مظاہروں کے دوران میں 107شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ چار سکیورٹی اہلکار بھی

مارے گئے تھے۔زیادہ تر مظاہرین سینے یا سر میں گولیاں لگنے سے ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔رپورٹ میں 3,400سے زیادہ زخمیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔عراق کی اعلی وزارتی کمیٹی نے پرتشدد مظاہروں میں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی تحقیقات کی ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ منصوبہ بندی کے وزیر ڈاکٹر نوری صباح الدلیمی ہیں۔کمیٹی نے رپورٹ میں کہا کہ بعض سکیورٹی حکام نے قیادت کے پست تر معیار کیا مظاہرہ کیا تھا جس کی وجہ سے شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔اس میں بغداد میں آپریشنز کمانڈر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ دیوانیہ ، نجف ، واسط ، ذی قار ، میسان اور بغداد کے پولیس افسروں سمیت دوسرے حکام کو ان کی ذمے داریوں سے سبکدوش کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔فوج کے گیارھویں انفینٹری ڈویژن کے کمانڈر کو بھی مظاہرین پر فائرنگ کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کے کمانڈر کی منظوری کے بعد تحقیقات کے نتائج کو عدلیہ کو پیش کیا جائے گا۔ کمیٹی نے پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے دوران میں متاثرہ خاندانوں ، زخمی افراد اور سکیورٹی افسروں کے بیانات بھی قلم بند کیے تھے۔میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد اور دوسرے شہروں میں اس ماہ کے اوائل میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے شرکا پر سکیورٹی فورسز نے براہ راست گولیاں چلائی تھیں۔ ان کی کارروائیوں اور

جھڑپوں میں کم سے کم ایک سو دس افراد ہلاک اور چھے ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ہزاروں عراقی شہریوں نے بغداد اور دوسرے شہروں میں ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ، شہری خدمات کے پست تر معیار اور سرکاری حکام کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔عراقی سکیورٹی

فورسز نے اس عوامی احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے طاقت کا بے محابا استعمال کیا تھا۔ مظاہرین وزیراعظم عادل عبدالمہدی سیاپنے انتخابی وعدے کے مطابق وسیع تراصلاحات کا مطالبہ کررہے تھے۔اس احتجاجی تحریک کے بعد وزیراعظم نے مختلف انتظامی اور اقتصادی اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…