بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

3 کم عمرپاکستانی نژاد امریکی بہنوں نے مل کر 9 کتابیں لکھ ڈالیں صدف،ہدا اور ملیحہ نے اس کارنامے کا کریڈٹ کسے دیدیا؟

datetime 8  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)تین کم عمرپاکستانی نژاد امریکی بہنوں نے مل کر 9 کتابیں لکھ لیں جن کی ہزاروں سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے و الد حافظ ایاز صدیقی کے مطابق تینوں بہنوں نے کم عمری میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا۔

20 سالہ صدف ، 16 سالہ ہدا اور 15 سالہ ملیحہ اپنے ہم عمروں کے لیے افسانوی ناولز لکھتی ہیں۔ایاز صدیقی کے مطابق 90 کی دہائی میں انہوں نے پاکستان کے شہر خانیوال سے امریکا، نیویارک شہر میں ہجرت کی تھی، وہ ایک نجی اسکول کے استاد تھے، امریکا منتقل ہونے کے بعد انہوں نے اپنا پیشہ بدلا اور وکالت شروع کر دی تھی۔ایازصدیقی کا ’ کہنا تھا کہ یہ میرا خواب تھا کہ میں ناولز لکھوں، مگر مجھے اس کے لیے وقت نہیں ملا، مگر آج میری بیٹیاں میرے خواب پورے کر رہی ہیں، تینوں بہنوں کی کتابیں ایمزون پر دستیاب ہیں۔بہنوں میں سب سے چھوٹی ملیحہ نے 2 کتابیں لکھی ہیں، پہلی کتاب انہوں نے ’دی ہارٹ آف ٹائم‘ 10 سال کی عمر میں لکھی تھی جبکہ صدف کا ایک ناول شائع ہو چکا ہے جس کا نام ’کراسنگ ریڈ لائٹس‘ تھا، صدف نے جب اپنا پہلا ناول مکمل کیا، ان کی عمر 14 سال تھی۔ ہدا پانچ ناولز کی مصنفہ ہیں جن کے ناولز فکشن، اسٹوڈیو فیچر فلم اور ٹیلی ویڑن سیریز کے لیے موزوں تھے۔تینوں بہنوں کا کہنا ہے کہ اْن کے والد انہیں اس کام میں مدد فراہم کرتے ہیں، ان کی تحریر میں نکھار لانے کا سہرا اْن کے والد کے سر جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…