جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مہاتما گاندھی کے پوتے پروفیسر راج موہن گاندھی نے بھی کشمیریوں کیلئے آواز بلند کردی، ایسا مطالبہ کردیا کہ بھارتیوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی

datetime 15  ستمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن (آئی این پی) بین الاقوامی شہرت یافتہ سکالر اور مہاتما گاندھی کے پوتے پروفیسر راج موہن گاندھی نے ہندوستان کے کشمیر کے اوپر قبضہ کو مسترد کر تے ہوئے کشمیر استصواب رائے کروانے کی حمایت کردی اور کہا کہ کشمیر میں کرفیو کا مسلسل نفاذ انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔

کشمیریوں کو زبردستی طاقت کے زور پہ ہندوستان کا شہری نہیں بنایا جا سکتا، ہندوستان کی حکومت کو گاندھی کے فلسفہ پہ عمل کرنا چاہیے اور ہندوستان میں بسنے والے تمام لوگوں سے ایک جیسا سلوک کرنا چاہیئے۔ وہ امریکہ کی مشہور یونیورسٹی، یونیورسٹی آف الے نائیاربانہ، شمپین میں کشمیر سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے ، کشمیر سالیڈیریٹی کونسل کے چئیرمین جاوید راٹھور نے بھی خطاب کیا۔ جاوید راٹھور نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیر کو جیل میں بدل دیا ہے اور مسلسل اکتالیس دنوں سے کرفیو نافذ ہے۔ جس کے نتیجہ میں ایک بہت بڑے انسانی المیے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ساتھ ایشا اور دنیا کے امن کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ کا واحد حل استصواب رائے/ ریفرنڈم ہے۔ تقریب میں بڑی تعداد میں یونیورسٹی کے پروفیسرز، اور مختلف مملک سے آئے ہوئے طلبا کے علاوہ مقامی طلبا نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کے بعد جاوید راٹھور کی قیادت میں سینکڑوں طلبہ نے یونیورسٹی کے کمپیس اور اربانہ شمین کی مرکزی شاہراہ پر مارچ کیا اور انسانی حقوق کی پامالی اور بھارتی بربریت اور کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے لئے نعرے لگائے۔ مارچ کے اختتام پر جاوید راٹھور نے طلبا پر زور دیا کہ وہ مستقبل درخشاں ستارے ہیں اور دنیا کے بہتر مستقبل کے لئے حق اور انصاف کا ساتھ دیں اور کشمیریوں کو انکی آزادی دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ اور انہوں نے پروگرام کا انعقاد کرنے پر سٹوڈنٹ کونسلز اور فکلٹی ممبران کا شکریہ ادا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…