بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مہاتما گاندھی کے پوتے پروفیسر راج موہن گاندھی نے بھی کشمیریوں کیلئے آواز بلند کردی، ایسا مطالبہ کردیا کہ بھارتیوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی

datetime 15  ستمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن (آئی این پی) بین الاقوامی شہرت یافتہ سکالر اور مہاتما گاندھی کے پوتے پروفیسر راج موہن گاندھی نے ہندوستان کے کشمیر کے اوپر قبضہ کو مسترد کر تے ہوئے کشمیر استصواب رائے کروانے کی حمایت کردی اور کہا کہ کشمیر میں کرفیو کا مسلسل نفاذ انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔

کشمیریوں کو زبردستی طاقت کے زور پہ ہندوستان کا شہری نہیں بنایا جا سکتا، ہندوستان کی حکومت کو گاندھی کے فلسفہ پہ عمل کرنا چاہیے اور ہندوستان میں بسنے والے تمام لوگوں سے ایک جیسا سلوک کرنا چاہیئے۔ وہ امریکہ کی مشہور یونیورسٹی، یونیورسٹی آف الے نائیاربانہ، شمپین میں کشمیر سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے ، کشمیر سالیڈیریٹی کونسل کے چئیرمین جاوید راٹھور نے بھی خطاب کیا۔ جاوید راٹھور نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیر کو جیل میں بدل دیا ہے اور مسلسل اکتالیس دنوں سے کرفیو نافذ ہے۔ جس کے نتیجہ میں ایک بہت بڑے انسانی المیے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ساتھ ایشا اور دنیا کے امن کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ کا واحد حل استصواب رائے/ ریفرنڈم ہے۔ تقریب میں بڑی تعداد میں یونیورسٹی کے پروفیسرز، اور مختلف مملک سے آئے ہوئے طلبا کے علاوہ مقامی طلبا نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کے بعد جاوید راٹھور کی قیادت میں سینکڑوں طلبہ نے یونیورسٹی کے کمپیس اور اربانہ شمین کی مرکزی شاہراہ پر مارچ کیا اور انسانی حقوق کی پامالی اور بھارتی بربریت اور کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے لئے نعرے لگائے۔ مارچ کے اختتام پر جاوید راٹھور نے طلبا پر زور دیا کہ وہ مستقبل درخشاں ستارے ہیں اور دنیا کے بہتر مستقبل کے لئے حق اور انصاف کا ساتھ دیں اور کشمیریوں کو انکی آزادی دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ اور انہوں نے پروگرام کا انعقاد کرنے پر سٹوڈنٹ کونسلز اور فکلٹی ممبران کا شکریہ ادا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…