بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام شروع، بھارت نے بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو شہریت دے دی

datetime 18  اگست‬‮  2019 |

سامبا (بھارت)(این این آئی)پاکستان اور بھارت کے درمیان سات عشروں سے متنازع چلی آرہی ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اعلان کے بعد نئے قانون سے برسوں پرانے مہاجرین کو فایدہ پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کے نئے قانون کے بعد 70 سال سے پناہ گزین کے طور پر زندگی گذارنے والے ایک گروپ کو بھارتی شہریت دی گئی ہے جس پروہ بہت خوش ہیں۔ان مہاجرین کے آباؤ اجداد 1947ء کے پْرتشدد واقعات کے بعد

ھجرت کرکے جموں وکشمیر میں آباد ہوگئے تھے مگر ریاست کی خصوصی حیثیت کی وجہ سے انہیں باضابطہ شہریت نہیں مل سکی۔برطانوی استبداد سے آزادی کے بعد برصغیر کو دو الگ الگ ملکوں میں قومیت کی بنیاد پرتقسیم کیا گیا۔ مسلمان اکثریتی علاقوں پرمشتمل پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا جبکہ ہندو اکثریت کی بنیاد پر بھارت کو الگ ملک کا درجہ دیا گیا۔مگردونوں ملکوں کوآزادی کی بھاری قیمت چکانا پڑی تھی۔ قریبا ڈیڑھ کروڑ لوگ جن میں ہندو، مسلمان اور سکھ شامل ہیں تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔مغربی پاکستان سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد ہجرت کرکے جموں وکشمیر اور بھارت کے دوسرے علاقوں میں آباد ہوئے۔ بھارت میں انہیں پناہ گزین کا درجہ حاصل رہا۔حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی شق 370 اور 35 اے کو ختم کرکے ریاست کی علاحدہ شناخت اور تاریخی حیثیت ختم کردی۔ اس اقدام سے جموں وکشمیر میں موجود ہندو مہاجرین کو وہاں کا باضابطہ شہری ہونے کا موقع مل گیا ہے۔بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق 1947ء میں مغربی پاکستان سے 5764 خاندانوں کے 47 ہزار افراد ھجرت کرکے جموں وکشمیر میں آباد ہوگئے تھے۔جموں وکشمیر کی شہریت حاصل کرنے والے جیت راج نے بتایا کہ آج ہمیں کم سے کم شہریت مل گئی ہے۔ ہم 70 سال سے خودکو پاکستانی قرار دیتے تھے، مگر آج کے بعد ہم بھارتی ریاست کے باشندیہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…