منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام شروع، بھارت نے بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو شہریت دے دی

datetime 18  اگست‬‮  2019 |

سامبا (بھارت)(این این آئی)پاکستان اور بھارت کے درمیان سات عشروں سے متنازع چلی آرہی ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اعلان کے بعد نئے قانون سے برسوں پرانے مہاجرین کو فایدہ پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کے نئے قانون کے بعد 70 سال سے پناہ گزین کے طور پر زندگی گذارنے والے ایک گروپ کو بھارتی شہریت دی گئی ہے جس پروہ بہت خوش ہیں۔ان مہاجرین کے آباؤ اجداد 1947ء کے پْرتشدد واقعات کے بعد

ھجرت کرکے جموں وکشمیر میں آباد ہوگئے تھے مگر ریاست کی خصوصی حیثیت کی وجہ سے انہیں باضابطہ شہریت نہیں مل سکی۔برطانوی استبداد سے آزادی کے بعد برصغیر کو دو الگ الگ ملکوں میں قومیت کی بنیاد پرتقسیم کیا گیا۔ مسلمان اکثریتی علاقوں پرمشتمل پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا جبکہ ہندو اکثریت کی بنیاد پر بھارت کو الگ ملک کا درجہ دیا گیا۔مگردونوں ملکوں کوآزادی کی بھاری قیمت چکانا پڑی تھی۔ قریبا ڈیڑھ کروڑ لوگ جن میں ہندو، مسلمان اور سکھ شامل ہیں تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔مغربی پاکستان سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد ہجرت کرکے جموں وکشمیر اور بھارت کے دوسرے علاقوں میں آباد ہوئے۔ بھارت میں انہیں پناہ گزین کا درجہ حاصل رہا۔حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی شق 370 اور 35 اے کو ختم کرکے ریاست کی علاحدہ شناخت اور تاریخی حیثیت ختم کردی۔ اس اقدام سے جموں وکشمیر میں موجود ہندو مہاجرین کو وہاں کا باضابطہ شہری ہونے کا موقع مل گیا ہے۔بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق 1947ء میں مغربی پاکستان سے 5764 خاندانوں کے 47 ہزار افراد ھجرت کرکے جموں وکشمیر میں آباد ہوگئے تھے۔جموں وکشمیر کی شہریت حاصل کرنے والے جیت راج نے بتایا کہ آج ہمیں کم سے کم شہریت مل گئی ہے۔ ہم 70 سال سے خودکو پاکستانی قرار دیتے تھے، مگر آج کے بعد ہم بھارتی ریاست کے باشندیہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…