بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے بعد جوالا مکھی پھٹنے کو تیار ، بھارتی صحافی نے خوفناک خطرے سے آگاہ کردیا

datetime 17  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی(آئی این پی) بھارتی رائٹر ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ کشمیر پر چھائی موت کی خاموشی تمام آوازوں سے بلند ہے، کرفیو کے خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بہت کچھ ہوگا، ردعمل میں بھارتی مسلمانوں کوخطرہ ہوسکتا ہے،، وزیراعلی ہریانہ کے کشمیری خواتین سے متعلق ریمارکس گھٹیا ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی رائٹر ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ کشمیر پر چھائی موت کی خاموشی تمام آوازوں سے بلند ہے، کرفیو کے خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بہت کچھ ہوگا، ردعمل میں بھارتی مسلمانوں کوخطرہ ہوسکتا ہے۔ مودی کے اقدامات کیخلاف بھارت میں بھی آوازیں اٹھنے لگیں، بھارتی رائٹر ارون دھتی رائے نے کہا کہ لگتا ہے بھارتی حکومت بد معاش ہوچکی ہے، کشمیر پر فیصلے کا جشن چھچورے انداز میں منایا جارہا ہے۔ارون دھتی رائے کا کہنا تھا کہ وزیراعلی ہریانہ کے کشمیری خواتین سے متعلق ریمارکس گھٹیا ہیں، کشمیر پر چھائی موت کی خاموشی تمام آوازوں سے بلند ہے، کشمیریوں کو پنجرے میں بندکر دیاگیاہے، لوگوں کوبے عزتکیا جارہا ہے۔بھارتی رائٹر نے کہا کرفیو کے خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بہت کچھ ہوگا، ردعمل میں بھارتی مسلمانوں کو خطرہ ہوسکتا ہے، انتہاپسند آر ایس ایس کے 6 لاکھ اہلکار مودی سمیت تربیت یافتہ ملیشیا ہیں۔خیال رہے مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے، کرفیو کے نفاذ کو آج تیرہواں روز ہے، مقبوضہ وادی میں معمول کی زندگی بد ستور مفلوج اور کمیونیکیشن کا بلیک آؤٹ ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیا اور دواؤں کی قلت ہوگئی ہے۔

بھارتی فوجی گلی محلوں میں دندناتے پھررہے ہیں اور کشمیری گھروں میں محصور ہیں، کشمیریوں کا کہنا ہے کہ مودی کرفیو ہٹائے پھر پتا چلے گا کشمیری کیا چاہتے ہیں، کشمیری آزادی چاہتے ہیں اور لے کررہیں گے۔یاد رہے چند ماہ قبل معروف اور ایوارڈ یافتہ مصنفہ ارون دھتی رائے نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا تھا کہ کشمیر میں ایسی صورتحال پائی جاتی ہے جہاں زیادہ سے زیادہ نوجوان مسلح جدوجہد میں شامل ہورہے ہیں اور بھارت میں سیاسی صورتحال کی وجہ سے ہندو قوم پرستی میں اضافہ ہوگیاہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…