منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

انڈیا میں گائے لے جانے پر مسلمان شہری کے قتل کے ملزم بری

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

راجستھان (این این آئی)بھارت میں ایک عدالت نے چھ ایسے افراد کو بری کر دیا ہے جن پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک مسلمان شہری کو گائے لے جانے کی وجہ سے سرِعام قتل کر دیا تھا۔عدالت میں اس واقعے کی ویڈیوز بھی پیش کی گئیں تاہم استغاثہ اپنا کیس مؤثر انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہی۔

یاد رہے کہ 2017 میں پہلو خان نامی ایک 55 سالہ مسلمان شہری اور ان کے دو بیٹوں کو انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان کے ضلع الور میں گائے کے خود ساختہ محافظوں نے ایک حملے کا نشانہ بنایا۔ بعد میں پہلو خان زخموں کو تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔خیال رہے کہ انڈیا میں ہندو نواز بی جے پی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد گائے کے متعلق قوانین میں سختی لائی گئی ہے اور اس کے علاوہ ملک میں کئی جگہ گائے کے خود ساختہ محافظوں (گئو رکشکوں) نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کئی افراد کو نشانہ بنایا ہے جن میں کئی اموات بھی ہوئی ہیں۔پہلو خان اور ان کے بیٹوں پر کیے حملے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پہلو خان حملہ آوروں سے معافی کی بھیک مانگ رہا ہے۔مقدمے میں وکیل سے صفائی حکم سنگھ شرما کا کہنا ہے کہ عدالت نے ملزمان کو اس لیے رہا کیا ہے کیونکہ استغاثہ ان کے موکلوں کو پہلو خان پر ہونے والے حملے سے منسلک نہیں کر سکا۔ان کا موقف تھا کہ پولیس نے ان کے موکلوں کو سیاسی وجوہات کی بنا پر گرفتار کیا تھا۔ادھر وکیلِ استغاثہ یوجندرا سنگھ نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ عدالت نے اس مقدمے میں ویڈیو شواہد قبلو نہیں کیے۔ عدالتم یں 40 گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔خیال رہے کہ وائرل ہونے کے بعد ان ویڈیوز کو فیس بک سے ہٹا دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…