بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

چیئرمین نیب نے میگاکرپشن کیسز بارے اہم ہدایات جاری کر دیں، مدت کاتعین بھی کر دیا

datetime 22  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ادارے کے تمام علاقائی سربراہان کو میگا کرپشن کیسز کو 10 ماہ کی محدود مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ایک اعلامیے میں جسٹس (ر) جاوید اقبال نے تمام نیب ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ ’شکایت کی تصدیق، تحقیق و تفتیش قانون کے مطابق 10 ماہ کی مدت میں مکمل کی جائے تا کہ میگا کرپشن کیسز کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔

نیب کے ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین نیب نے استغاثہ اور آپریشن ونگز سے علیحدہ علیحدہ بریفنگز لینے اور تفتشیی افسران اور پراسیکیوٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بیورو کے علاقائی دفاتر کا دورہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔علاوہ ازیں نیب کے علاقائی دفاتر میں گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنے اور بغیر کسی دباؤ کے عدالت میں بیان دینے اور انہیں سماعت میں پیش کرنے کے لیے گواہان سے متعلق ایک سیل قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔پریس ریلیز میں چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ گیلانی اور گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد افراد نیب پر اعتماد کرتے ہیں اور شکایات، تحقیقات و تفاتیش کی تعداد گزشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں دگنی ہوچکی ہے۔جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ قیادت کے دور میں نیب نے بدعنوانی کے 600 ریفرنسز فائل کیے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے اس کے ساتھ ایک ہزار 210 کرپشن ریفرنسز پہلے ہی احتساب عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔چیئرمین نیب نے بتایا کہ ادارے نے راولپنڈی بیورو میں جدید سہولیات سے مزین ایک فرانزک لیبارٹری بھی قائم کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ بدعنوانی کے ادارے نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) کا نیا تصور متعارف کروایا ہے تا کہ اعلی افسران کے تجربات اور مجموعی قابلیت سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔اس سے نہ صرف کام کے میعار میں بہتری آئے گی بلکہ یہ بات بھی یقینی ہوگی کہ نیب کے معاملات میں کوئی فرد واحد اثر انداز نہیں ہوسکتا۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ

نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں لہٰذا بیورو نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے ہیں تا کہ نوجوانوں میں بدعنوانی کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جاسکے۔جس کے تحت کالجوں اور جامعات میں 50 ہزار سے زائد کیریکٹر بلڈنگ سوسائیٹیز تشکیل دی گئیں ہیں۔چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھاکہ ہیڈکوارٹر اور علاقائی دفاتر کی کارکردگی میں بہتری کے لیے گریڈنگ سسٹم ترتیب دیا گیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس سسٹم کے تحت ہیڈ کوارٹر اور علاقائی دفاتر کا ثانونی اور سالانہ بنیادوں کا جائزہ لیا جاتا ہے جس کے باعث نیب دفاتر کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…