ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کی شکار لڑکی نے واپس آذربائیجان جانے سے انکار کردیا

datetime 3  اکتوبر‬‮  2026 |

لاہور(این این آئی) ایئرپورٹ ذرائع نے کہا ہے کہ اجتماعی زیادتی کی شکار آذربائیجان کی خاتون مسافر ڈیانا نے وطن واپس جانے سے انکار کر دیا ہے۔

لاہور ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی ادارے آذربائیجان کی خاتون مسافر 22 سالہ ڈیانا رومک قزی باغییوا کو ایئرپورٹ لانج میں لے کر آئے تھے، اور امیگریشن کلیئرنس کے بعد وہ طیارے میں سوار ہو گئی تھی، تاہم اس کے بعد اچانک ڈیانا نے سفر کرنے سے انکار کر دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیانا کا مقف ہے کہ اسے دھوکے سے آذربائیجان واپس بھیجا جا رہا ہے، ڈیانا نے عملے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے سمجھانے کے باوجود واپس جانے سے انکار کر دیا ہے۔سفر سے انکار پر ڈیانا رومِک قِزی کو طیارے سے آف لوڈ کر دیا گیا، اور ایئرپورٹ کے انٹرنیشنل بریفنگ ہال منتقل کیا گیا، ڈیانا نے کہا میں اپنی مرضی سے آذربائیجان واپس نہیں جانا چاہتی۔ ذرائع کے مطابق ڈیانا کو سیکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں بریفنگ ایریا میں بٹھایا گیا۔29 ستمبر کو عدالت میں ریکارڈ کرائے بیان کے مطابق ڈیانا 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی تھی اور 5 روز فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور آئی، وہاں سے اسکردو جانے کا پلان تھا، تاہم اکیلی ہونے کے باعث جان پہچان کی نمرہ اور مسکان کو لاہور میں ملنے کے لیے میسج کیا۔رات 11 بجے وہ اکیلی کیفے گئیں، جہاں مسکان ان کے پاس آئی اور دونوں نے کھانا کھایا، پھر رات 2 بجے سفید رنگ کی گاڑی آئی اور وہ ایک اپارٹمنٹ میں گئے اور کھانا کھایا۔

پھر اپارٹمنٹ میں 2 لڑکے آئے، جن میں سے ایک کا نام علی زین تھا، نمرہ اور محسن نے الگ کمرے میں بات کی، جب کہ مسکان بھی ان کے پاس چلی گئی۔نمرہ نے محسن سے 20سے 30 ہزار روپے لیے اور بتایا کہ یہ پارٹی کے لیے ہیں، بعد ازاں محسن نے انھیں چھونے کی کوشش کی اور الگ کمرے میں بند کر دیا۔ ڈیانا نے جب نمرہ اور مسکان کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ جا چکی ہیں، اس پر انھوں نے کہا کہ مجھے اجازت دو مجھے بھی جانا ہے، تو لڑکوں نے کہا آپ نہیں جا سکتیں آپ کی دوست پیسے لے گئی ہیں۔ڈیانا نے لڑکوں کو 30 ہزار روپے دینے کی پیشکش کی، تاہم علی زین نے مبینہ طور پر دھمکایا اور بلیک میل کیا، جب کہ ملزمان نے شراب پینے کو کہا اور اس کے بعد محسن، احمد اور علی زین نے زیادتی کی۔ اس کے بعد گاڑی میں جانے لگے تو خاتون کے بیگ میں 2 لاکھ پاکستانی روپے اور 2 موبائل فون تھے لیکن لڑکوں نے کہا بیگ تب واپس کریں گے اگر پولیس میں شکایت نہ کرو۔اس کے بعد احمد اور علی زین نے گاڑی کا دروازہ کھول کر انھیں باہر دھکا دے دیا، جس کے بعد وہاں موجود لوگوں سے 15 پر کال کرنے کی درخواست کی، جس پر لوگوں نے مدد کی اور پولیس موقع پر پہنچ گئی۔30 ستمبر کو معلوم ہوا کہ لاہور کے علاقے ڈیفنس سی میں اجتماعی زیادتی کی شکار غیر ملکی لڑکی ڈیانا کی پاکستان میں شادی اور طلاق ہوئی تھی، ان کا نکاح پاکستانی شہری سے 12 فروری 2025 کو راولپنڈی میں ہوا تھا، طلاق نامے کی ایک دستاویز بھی سامنے آئی، شادی کے بعد ساس سے اختلاف کے باعث وہ اپنے شوہر کے ہمراہ فیصل آباد میں کرائے کے مکان میں رہنے لگی تھیں۔ذرائع کے مطابق شوہر نے شبیر احمد عرف نقاش نامی شخص سے دوستی کی وجہ سے ڈیانا کو طلاق دی، جس کے بعد ڈیانا نے شبیر احمد کے ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا۔

شبیر ان کو کو لاہور لے آیا اور اپنے دوست توحید بٹ سے بھی ملوایا۔ ڈیانا اور شبیر کچھ عرصہ ایبٹ آباد میں بھی رہے، بعد ازاں دوبارہ لاہور آ گئے۔پولیس نے مبینہ واقعے کے معاملے میں شبیر احمد کو بھی حراست میں لے رکھا ہے، جب کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ متاثرہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا مقدمہ لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں درج ہے۔ واقعے میں مسکان، محسن اور علی زین گرفتار ہیں، پوچھ گچھ کے لیے 20 سے زائد دیگر افراد بھی حراست میں ہیں، مرکزی ملزم احمد تنویر کو تاحال پولیس گرفتار نہیں کر سکی ہے۔اچانک یہ بھی انکشاف ہوا کہ ڈیانا پنجاب اسمبلی بھی گئی تھیں، جہاں انھوں نے ایوان، سیڑھیوں اور دیگر مختلف حصوں میں تصاویر کھنچوائیں، یہ تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں تو سیکیورٹی اور انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی۔تصاویر سامنے آنے کے بعد پولیس ذرائع نے کہا اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ آذربائیجانی خاتون پنجاب اسمبلی کیسے پہنچی اور انھیں حساس نوعیت کی اس عمارت میں داخلے کی اجازت کس نے اور کیوں دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…