بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

دولت ہتھیانے کی غرض سے اپنے دوست کو قتل کرنے والے ملزم کو سزاموت سنادی گئی

datetime 21  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ دیسک) دولت ہتھیانے کی غرض سے اپنے دوست کو قتل کرنے والے ملزم کو سزاموت سنادی گئی ، عامر مشتاق رہائشی G7/3-3کو تھانہ آبپارہ کی حدود سے اسکے دوست یاور محمود نے اپنے گھر غوری ٹاون بھلا کر بے دردی سے چھری اور ٹوکے کے وارسے قتل کر دیا تھا، ماڈل کورٹ کے معزز جج سہیل ناصر نے ڈیڑھ سال زیر سماعت کیس میں ایڈووکیٹ ملک ثاقب محمود نے

مقدمہ مدعی کی طرف سے دلائل پیش کیےدلائل کی روشنی میں عدالت نے ملزم کو سزائے موت کے ساتھ جرمانے کی سزا سنا دی۔ تفصیلات کے مطابق 10دسمبر 2018کو عامر مشتاق تھانہ آبپارہ کی حدود میں واقع اپنے گھر سے ساڑھے سات لاکھ روپے کے پرائز بونڈ اور 14لاکھ روپے کیش لیکر سامان لینے کی غرض سے راولپنڈی نکلا کہ اسکے دوست یاور محمود نے اسکے ساتھ رابطہ کیا اور پھر مقتول کو اپنے گھر واقع تھانہ کورال کی حدود غوری ٹاون گلی نمبر32فیز 4میں لئے گیا اور وہاں پر نشہ آور چیز کھلا کر چھریوں اور ٹوکے کے وار کرتے ہوئے بے دردی سے قتل کے بعد مقتول کے جسم کو ٹکروں میں تقسیم کرتے ہوئے جسم کے کچھ حصے برما پل کے نیچے پھینک کر باقی جسم کے حصوں F7/4پارک میں لےجاکر مٹی کا تیل پھینک کر آگ سے جلا دیا تھا مقتول کے بھائی نے اپنے متعلقہ تھانہ آبپارہ میں مقتول کے اغواء ہوجانے کی درخواست دی جس پر متعلقہ تھانہ کی پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے مقتول کے دوست یاور محمود کو شک کی بنیاد پر گرفتار کرتے ہوئے انوسٹی گیشن کی جس سے ثابت ہوگیا کہ عامر مشتاق کو اسکے دوست نے پیسے ہتھیانے کی غرض سے قتل کردیا ہے جسکے بعد مقدمہ نمبر…بجمرم 302وقوع کے دو دن بعد 12دسمبر 2018کو مقتول کے بھائی کی مدعیت میں درج ہوا دوران تفشیں ملزم کی نشاندی پر مقتول کے کچھ جسم کے حصے تھانہ کورال کی حدود میں واقع برما پل کے نیچے سے برآمد کرلیے مذکورہ قتل کیس ڈیڑھ سال سے عدالت میں زیر سماعت تھا جس میں ملزم کی طرف سے رضوان عباسی جبکہ مدعی کی طرف سے ملک ثاقب ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز معزز جج سہیل ناصر کی عدالت میں اپنے اپنے دلائل پیش کیے جنکی روشنی عدالت نے گرفتار ملزم کودفعہ 302کے تحت جرم ثابت ہوجانے پر سزا موت کے ساتھ 10لاکھ روپے معاوضہ قانونی مقتول کے ورثاء کو دینے کا حکم سنا دیا جبکہ زیر دفعہ 201میں بھی ملزم کودو لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ سات لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…