اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیوں پیش کی؟ڈپٹی چیئرمین سینٹ کیخلاف تحریک کے بعد حکومت کا ایک اور نہلے پہ دہلہ،ایساقدم اُٹھالیا کہ اپوزیشن کے گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 19  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومت نے قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کر لیا۔نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے خلاف بھی

عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے مشاورت شروع کر دی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر حکومت نے درمیانی راہ نکالنے کے بجائے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی اور اب حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں حزب اختلاف کے حمایت یافتہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ہے جس کے بعد حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے چیئرمین قائمہ کمیٹیوں کی باری آنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں چیئرمین قائمہ کمیٹیوں کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے حکمت عملی تیار کر لی ہے جس کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے بھی مشاورت کر لی گئی۔حکومت اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد چیئرمین قائمہ کمیٹیوں کے خلاف میدان میں اترے گی جبکہ حزب اختلاف نے بھی جوابی حکمت عملی کے لیے سرجوڑ لیے ہیں اور قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔واضح رہے کہ قواعد کے مطابق قائمہ کمیٹی اراکین کی سادہ اکثریت کمیٹی چیئرمین تبدیل کر سکتی ہے۔ جس کے لیے اسپیکر یا چیئرمین کو تحریری طور پر درخواست دینا ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…