ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

عینک والا جن بڑ ی بڑی باتیں کرتا ہے،ہم گالیاں نہیں دیتے اور نہ ہی پگڑیاں اچھالتے ہیں،پیپلز پارٹی کا حیران کن دعویٰ

datetime 18  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان نے حکومتی وزراء پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم گالیاں نہیں دیتے اور نہ ہی پگڑیاں اچھالتے ہیں،جو طریقہ حکومت نے اختیا ہے وہ پاکستان کے حق میں نہیں، عزیر بلوچ کا معاملہ دوبارہ کیوں زندہ کر رہے ہو،عینک والا جن بڑ ی بڑی باتیں کرتا ہے، عینک والے بھائی صاحب اتنی ساری پراپرٹی پر آپ عدالت جائیں،ایمانداری سے کہتا ہوں لوگ آپ سے تنگ ہیں،ریاستی ادارے فرمائشی پروگرام پر چلیں تو پاکستان نہیں چلے گا۔

بدھ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان مولانا بخش چانڈیو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم پگڑیاں نہیں اچھالتے ہم گالیاں نہیں دیتے،انکے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے،انکے پاس ماضی کی حکومت کو دھمکیاں دینے کے علاوہ کیا ہے؟اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایسی باتیں کرتے ہیں،انہوں نے پھر عینک والا جن پال لیا ہے،ان کا عینک والا جن بھی بڑی بڑی باتیں کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اتنی ساری پراپرٹی ہے عینک والے بھائی صاحب عدالت جائیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ کا ایک افلاطون ہے اسکو بڑی منتیں کر کے لائے ہیں۔مولا بخش چانڈیو نے کہاکہ یہاں سب سیاسی خانہ بدوش بول رہے ہیں،کہہ رہے ہیں کوئی ٹیکس نہیں لگایا ہے یہ مذاق والی بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ آپکے افلاطون کچھ بھی بولتے رہیں عوام سب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ نے کونسا وعدہ عوام کے ساتھ پورا کیا ہے، انہوں نے کہاکہ محترم آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری آپ کیلئے خوف کا نام ہو گئے ہیں انہوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہوگا کہ آپکو معاف کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ آپ صوبوں کے ساتھ سندھ کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں،سارے معاملات آپکی طرف جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج غریبوں کا جینا محال ہو گیا ہے،آپ اپنی جھوٹی سکیموں کی بات کر رہے ہیں،آپ کر سکتے ہیں انکار قرضوں سے۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے جس انداز سے باتیں کرنا شروع کی ہیں انکے نتائج آ جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آپ ملک کے کام نہیں آ رہے،جو طریقہ کار آپ نے اختیار کیا ہے

وہ پاکستان کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ عزیر بلوچ کا معاملہ دوبارہ کیوں زندہ کر رہے ہو،عزیر بلوچ کا معاملہ تو آپکے پاس تھا۔ انہوں نے کہاکہ آپ نے جو نئی سکیم چلائی ہے جھوٹ بولنے کی، ایمانداری سے کہتا ہوں لوگ تنگ ہیں،آپ اپنے قرضوں کی بات کیوں نہیں کرتے اپنا بتائیں مختصر عرصے میں کتنا قرضہ لیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کو جمہوریت کو آپ نے بے توقیر کیا ہے،یہ زبان چھوڑ دیں۔انہوں نے کہاکہ ادھر ایسی باتیں کریں گے تو جواب دینا ہوگا،تین چار ادارے پاکستان پرست ہونے چاہیں۔انہوں نے کہاکہ ریاستی ادارے فرمائشی پروگرام پر چلیں تو پاکستان نہیں چلے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…